خوفناک سے دلکش بننے کی کوشش:ٹرمپ نےسرکاری پورٹریٹ تبدیل کردیا

خوفناک سے دلکش بننے کی کوشش:ٹرمپ نےسرکاری پورٹریٹ تبدیل کردیا
کیپشن: خوفناک سے دلکش بننے کی کوشش:ٹرمپ نےسرکاری پورٹریٹ تبدیل کردیا

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مدت صدارت کے ابتدائی چند ماہ میں ہی سرکاری پورٹریٹ تبدیل کروا دیا ہے، جو صدارتی روایت سے ہٹ کر ایک غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔

نئے پورٹریٹ میں صدر ٹرمپ کو ایک زیادہ نرم، پُر اعتماد اور پُرکشش انداز میں پیش کیا گیا ہے، جب کہ پہلے والی تصویر میں ان کے چہرے پر سختی، آنکھوں میں تیزی اور لبوں پر جمی سنجیدگی نمایاں تھی۔

ٹرمپ کی نئی تصویر میں:

پس منظر سیاہ رکھا گیا ہے، جو پہلے امریکی پرچم اور ریاستی ہال میں موجود تھا
ٹائی کا رنگ تبدیل کر کے ان کی مشہور "ریڈ پاور ٹائی" لگائی گئی ہے

چہرے کے تاثرات نسبتاً نرم اور پُر سکون ہیں، جن میں سابقہ خشمگینی کی جگہ مسکراہٹ کا ہلکا سا عکس نظر آتا ہے

یہ تبدیلی شاید اس لیے کی گئی ہے کہ پہلا پورٹریٹ جارجیا میں ان کی گرفتاری کے بعد جاری ہونے والے " مگ شاٹ" سے خاصی مشابہت رکھتا تھا، جس پر میڈیا اور عوام نے خوب تبصرے کیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں کے مطابق، وہ اپنے ظاہری امیج کے بارے میں غیر معمولی حساسیت رکھتے ہیں۔ بطور سابق ریئلٹی ٹی وی اسٹار، ٹرمپ کی شخصیت کا ایک بڑا حصہ کیمرا اور منظرنامے کے کنٹرول سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے نہ صرف اپنے مگ شاٹ کے لیے باقاعدہ پوز کی پریکٹس کی، بلکہ انتخابی کامیابی کے بعد اسی تصویر کو وائٹ ہاؤس کی دیوار پر لگا دیا — اور دعویٰ کیا کہ"یہ تاریخ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مگ شاٹ ہے۔ اس نے ایلوس اور فرینک سیناترا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا!"

کوڈریڈو کا متنازعہ پورٹریٹ بھی ہٹوا دیا

یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے کسی تصویر پر اعتراض کیا ہو۔ مارچ میں ریاست کولوراڈو کی قانون ساز اسمبلی سے ان کا سرکاری پورٹریٹ ہٹا دیا گیا، جسے ٹرمپ نے "انتہائی خراب" قرار دیا۔

یہ پورٹریٹ برطانوی آرٹسٹ سارہ بورڈمین نے 2018 میں بنایا تھا، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ تصویر میں ٹرمپ کو "سنجیدہ، متفکر اور غیر متنازع" دکھایا گیا ہے۔ لیکن ٹرمپ نے اسے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کچھ یوں تنقید کا نشانہ بنایا کہ"یہ تصویر اتنی خراب ہے کہ شاید میں نے خود بھی کبھی ایسا نہ دیکھا ہو... اس آرٹسٹ نے اوباما کی تصویر بھی بنائی تھی اور وہ بہترین ہے۔ لگتا ہے جیسے اُس کی صلاحیت عمر کے ساتھ ختم ہو گئی۔"

امیج مینجمنٹ یا عوامی تاثر کی جنگ؟

سیاسی ماہرین کے مطابق، یہ قدم صرف ظاہری تصویر کی تبدیلی نہیں بلکہ عوامی تاثر کو قابو میں رکھنے کی ایک شعوری کوشش ہے۔ ایسے وقت میں جب ٹرمپ پر ماضی کی مقدمات، گرفتاریوں اور عدالتی کارروائیوں کے سائے موجود ہیں، ایک "نرم مزاج، پراعتماد لیڈر" کا تاثر دینا ان کے سیاسی مفادات میں ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کی تصویری سیاست ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ جدید دور میں قیادت صرف فیصلوں سے نہیں، بلکہ ’چہرے‘ سے بھی جانی جاتی ہے۔ ان کے لیے یہ صرف ایک پورٹریٹ نہیں، بلکہ ایک بیان ہے — جس میں وہ خود کو پھر سے اپنی پسند کی روشنی میں دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

Watch Live Public News