ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک اور دھچکہ اُس وقت لگا جب پارٹی کے ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری ساجد قریشی نے اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہوں نے گورنر پنجاب سلیم حیدر ہوتی سے گورنر ہاؤس لاہور میں ملاقات کی، جہاں انہیں پیپلز پارٹی میں باضابطہ خوش آمدید کہا گیا۔ ملاقات کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال، احتجاجی سیاست اور جمہوریت کے مستقبل پر تفصیلی گفتگو بھی کی گئی۔
اس موقع پر گورنر پنجاب نے کہا کہ عوام نے ایک بار پھر 5 اگست کی احتجاجی کال کو مسترد کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ پاکستان میں بدامنی اور عدم استحکام کے خواہاں نہیں۔ ان کے مطابق عوام اور سیاسی کارکنان مسلسل دھرنوں اور احتجاجی روایات سے تنگ آ چکے ہیں، اب وقت سیاسی استحکام اور ترقی کا ہے۔ گورنر نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وہ نظریاتی جماعت ہے جو ہمیشہ کارکنوں کے ساتھ کھڑی رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ ایک بار پھر پارٹی کی جانب لوٹ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 3بچوں کو جنم دینے والی خاتون کے ہاں دوبارہ 5بچوں کی پیدائش
انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نوجوان قیادت کی علامت ہیں اور بہت جلد ملک کی وزارتِ عظمیٰ سنبھالیں گے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو کارکنوں کی قربانیوں اور محنت کو نہ صرف سراہتی ہے بلکہ انہیں باعزت عہدوں سے بھی نوازتی ہے۔
ساجد قریشی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاجی سیاست، دھرنوں اور منفی بیانیے سے تنگ آ کر پی ٹی آئی چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق جو جماعت ریاستی مفادات کے خلاف کام کرے، اُس کا حصہ رہنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انہیں اعتماد ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی سیاسی جدوجہد اب ایک مثبت اور قومی مفاد پر مبنی نظریے کے تحت آگے بڑھے۔
گورنر پنجاب نے ساجد قریشی اور ان کے ساتھیوں کو پارٹی میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کی سیاسی خدمات رائیگاں نہیں جائیں گی اور انہیں پارٹی میں بھرپور عزت و مقام دیا جائے گا۔