ویب ڈیسک: ایران کے وزیر انٹیلیجنس اسماعیل خطیب نے انکشاف کیا ہے کہ تہران کو اسرائیل کی جوہری تنصیبات، دفاعی نظام اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق حساس نوعیت کی دستاویزات حاصل ہوئی ہیں، جنہیں جلد منظرِ عام پر لایا جائے گا۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل خطیب نے ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ یہ معلومات اسرائیل کے امریکا، یورپی ممالک اور دیگر ریاستوں سے دفاعی و جوہری روابط پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے ان دستاویزات کو "قیمتی خزانہ" قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی منتقلی ایک نازک اور وقت طلب عمل تھا، جس کے دوران مکمل سیکیورٹی کو یقینی بنایا گیا۔
وزیر انٹیلیجنس کے مطابق یہ مواد تعداد میں اتنا زیادہ ہے کہ اگر ہزاروں میں بھی گنا جائے تو کم ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مواد کے ذرائع اور منتقلی کا طریقہ کار فی الحال خفیہ رکھا جائے گا، تاہم یہ معلومات جلد عام کر دی جائیں گی تاکہ ایران کی دفاعی پوزیشن کو تقویت ملے۔
واضح رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک روز قبل رپورٹ کیا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں کو اسرائیل کے حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو چکی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ وہی مواد ہے جو ماضی میں اسرائیلی جوہری ریسرچ سینٹر پر سائبر حملے کے نتیجے میں حاصل ہوا تھا یا کوئی نیا ڈیٹا ہے۔
ادھر اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ 2018 میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خفیہ اداروں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق وسیع دستاویزات حاصل کی ہیں، جن سے تہران کی سرگرمیوں پر کئی سوالات اٹھے تھے۔