لاس اینجلس:آگ سے متاثر ہونے والے علاقوں میں کرفیو نافذ

لاس اینجلس:آگ سے متاثر ہونے والے علاقوں میں کرفیو نافذ

ویب ڈیسک: لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی تاریخ کی بدترین آگ بجھائی نہ جاسکی، آگ سے متاثر ہونے والے کچھ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

تفصیلات کےمطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے مرکزی شہر ’ لاس اینجلس‘ میں تاریخ کی خوفناک آگ سے درجنوں افراد ہلاک جبکہ 10 ہزار املاک تباہ ہو گئیں ہیں، 1 لاکھ 80 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 3 دن سے لگی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا، حکام نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مزید تیز ہواؤں کے چلنے کی پیش گوئی کی ہے۔

جمعہ کو لاس اینجلس کی مقامی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ باوجود کوشش کے لاس اینجلس کے 2 زونز میں آگ ابھی تک پھیلی ہوئی ہے اور اس پر قابو پانے کی ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم اس آگ سے معاشی نقصانات 50 بلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں اس آگ کو امریکی تاریخ کی سب سے خطرناک قدرتی آفت قرار دیا جا رہا ہے۔ 

مزید تیز ہواؤں کی پیش گوئی سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ آگ مزید پھیل سکتی ہے جس کے باعث  صورت حال مزید سنگین ہے، متاثرہ علاقوں میں لوٹ مار پر کرفیو نافذ کردیا گیا،۔

پالیسیڈس اور ایٹن کے علاقوں میں آج رات کے وقت کرفیو کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ لوگ اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، افسر کا کہنا تھا لوٹ مارنے کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بار پھر جنگل کی آگ سے متاثر خاندانوں کی مدد کرنے کا اعلان کر دیا، متاثرہ خاندانوں کو اس ڈراؤنے خواب سے نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

دوسری جانب امریکی اخبار ’ لاس اینجلس‘ کی رپورٹ کے مطابق مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ اب تک آگ سے 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم بہت سے افراد کی لاشیں جل چکی ہیں جن کی شناخت کے لیے وقت درکار ہو گا، آگ سے اب تک 10 ہزار سے زیادہ سرکاری و نجی املاک اور گھرانے مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔

Watch Live Public News