(ویب ڈیسک ) ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے اس پر کوئی فوجی حملہ کیا تو وہ پہلے سے کہیں زیادہ "شدید اور تباہ کن" جواب دے گا۔
ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے سرکاری میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ دھمکی اس وقت دی جب تہران نے دعویٰ کیا کہ اسے ممکنہ اسرائیلی حملے کے بارے میں خفیہ معلومات ملی ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر ایران کے جوہری ٹھکانوں پر اکیلے حملے کی تیاری کر رہا ہے، کیونکہ اسرائیلی حکومت کو خدشہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی جوہری معاہدہ نہیں ہو پائے گا، یا پھر کوئی کمزور معاہدہ سامنے آئے گا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے جوہری ادارے نے ایران پر گزشتہ 20 سالوں میں پہلی بار اپنے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ سال 2 بار براہ راست جھڑپیں ہوئیں، جو کہ دونوں دیرینہ دشمن ممالک کے درمیان پہلابار براہ راست تصادم تھا۔
امریکہ اتوار کو ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کرے گا
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر بات چیت کا ایک اور دور اتوار کو مسقط میں ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ بدر البوسعدی نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ " امریکا اور ایران کے درمیان چھٹا دور اتوار 15 تاریخ کو مسقط میں ہوگا۔"
امریکی حکام کے مطابق صدر کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کے ایک پوڈکاسٹ میں کہا ہے کہ وہ اب اس معاہدے کے ممکنہ طور پر طے پانے کے بارے میں "کچھ مہینے پہلے کے مقابلے میں کم پُرامید" ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کو اطلاعات ملی ہیں کہ اسرائیل ایران پر حملے کی تیاری میں ہے، اور اسی لیے امریکہ نے خطے سے اپنے غیر ضروری عملے کو نکلنے کی ہدایت دے دی ہے، تاکہ کسی ممکنہ جوابی حملے سے بچا جا سکے۔
خیال رہے کہ ایران نے بدھ کو خبردار کیا کہ اگر جوہری مذاکرات ناکام ہوئے اور جنگ مسلط کی گئی، تو ایرانی پاسدارانِ انقلاب تمام امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔
ایران کا افزودہ یورینیم کی پیداوار میں "نمایاں اضافہ" کا اعلان
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی افزودہ یورینیم کی پیداوار میں "نمایاں اضافہ" کرے گا۔
ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ "ہم فردو یورینیم افزودگی پلانٹ میں فرسٹ جنریشن کی مشینوں کو چھٹی جنریشن کی جدید مشینوں سے بدل رہے ہیں، جس سے ہماری افزودہ مواد کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔"
ایران پر پہلے ہی یہ الزام ہے کہ اس نے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کیا ہے، جو کہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب ترین حد سمجھی جاتی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ "ہمارے پاس اس سیاسی قرارداد کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں"۔ ایران نے ایک نئے افزودگی مرکز کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے، جو "ایک محفوظ مقام" پر ہوگا۔
ایران نے فوجی مشقیں وقت سے پہلے شروع کر دیں
ایرانی فوج نے اپنی بڑی فوجی مشقیں وقت سے پہلے شروع کر دی ہیں۔سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جن کا مقصد "دشمن کی حرکات" پر نظر رکھنا ہے۔
یہ مشقیں، جنہیں ’ڈرلز آف اتھارٹی ‘ کہا جا رہا ہے، ایران کی دفاعی صلاحیت اور جنگی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ ایران کے فوجی سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے کہا کہ یہ مشقیں بدلتے ہوئے خطرات کے جواب میں کی جا رہی ہیں تاکہ ایران کی دفاعی طاقت کو مضبوط کیا جا سکے۔