چین کا پاک بھارت جنگ میں جے10سی کی باضابطہ کامیابی کی تصدیق

چین کا پاک بھارت جنگ میں جے10سی کی باضابطہ کامیابی کی تصدیق
کیپشن: چین کا پاک بھارت جنگ میں جے10سی کی باضابطہ کامیابی کی تصدیق

ویب ڈیسک: چین کی قومی دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی صنعت بیورو نے انکشاف کیا ہے کہ چینی ساختہ جنگی طیارے جے-10 سی ای نے مئی 2025 میں اپنی پہلی عملی جنگی کامیابی حاصل کی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ چین کے کسی سرکاری ادارے نے باضابطہ طور پر اس طیارے کی میدانِ جنگ میں کامیابی کی تصدیق کی ہو۔

چینی ادارے کی جانب سے جاری بیان میں اگرچہ گزشتہ سال مئی میں ہونے والی فضائی جھڑپ کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کا براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا۔ بیان کے مطابق جے-10 سی ای طیاروں نے فضائی لڑائی کے دوران متعدد دشمن طیاروں کو نشانہ بنایا جبکہ خود کسی قسم کے نقصان سے محفوظ رہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے مئی میں ہونے والی جھڑپوں کے فوراً بعد رافیل سمیت بھارت کے چھ طیارے مار گرانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ بعد ازاں نومبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے سات بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مختلف مواقع پر مئی کی جنگ میں سات سے آٹھ طیاروں کے مار گرائے جانے کا ذکر کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل انیل چوہان نے گزشتہ سال سنگاپور میں ایک تقریب کے دوران بھارتی طیاروں کے نقصان کا اعتراف کیا تھا، تاہم انہوں نے درست تعداد نہیں بتائی تھی۔

چین کے اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انڈسٹری فار نیشنل ڈیفینس (SASTIND) کے مطابق جے-10 سی ای کی یہ جنگی کارکردگی بین الاقوامی دفاعی ماہرین اور عالمی ہوابازی صنعت کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس کامیابی کو دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں 2025 کی دس اہم ترین پیش رفتوں میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جے-10 سی ای مکمل طور پر چین میں تیار کیا گیا آل ویدر، سنگل انجن اور سنگل سیٹ ملٹی رول جنگی طیارہ ہے، جو فضائی برتری، انٹرسیپشن اور مختلف نوعیت کے حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ جدید ریڈار، ایویونکس اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ جے-10 سی ای کی کامیاب جنگی کارکردگی نہ صرف اس طیارے کی عملی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے بلکہ اس سے دیگر چینی دفاعی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مقبولیت اور برآمدات میں اضافے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

Watch Live Public News