ویب ڈیسک: ایک نئی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں ٹیکنالوجی کا استعمال درحقیقت دماغی کمزوری یا ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کر سکتا ہے، بجائے اس کے کہ یہ اسے بڑھائے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی دو جامعات نے مشترکہ طور پر اس تحقیق کا جائزہ لیا جو پیر کے روز نیچر ہیومن بیہیویئر جریدے میں شائع ہوئی۔
تحقیق کا مقصد “ڈیجیٹل ڈیمینشیا” کے تصور کو پرکھنا تھا۔ یعنی یہ نظریہ کہ مسلسل ٹیکنالوجی کے استعمال سے انسان کی دماغی صلاحیتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ تاہم 57 مطالعات اور 4 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا پر مبنی تجزیے سے ظاہر ہوا کہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والوں میں دماغی کمزوری کا خطرہ 42 فیصد کم پایا گیا۔
کون سی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر تحقیق کی گئی؟
تحقیق میں کمپیوٹر، اسمارٹ فون، انٹرنیٹ، ای میل، سوشل میڈیا اور ملٹی پل ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کو مدنظر رکھا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق میں تعلیم، آمدنی اور طرزِ زندگی جیسے عوامل کو بھی کنٹرول کیا گیا، تاکہ ٹیکنالوجی کے اثرات کو درست انداز میں جانچا جا سکے۔
سوشل میڈیا کا کردار متنازع
اگرچہ زیادہ تر ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال دماغی صحت کے لیے فائدہ مند پایا گیا، سوشل میڈیا کے حوالے سے نتائج غیرواضح رہے، یعنی مثبت یا منفی اثرات کا کوئی واضح رجحان سامنے نہیں آیا۔
تحقیق کے نمایاں پہلو
تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر جیرڈ بینج کے مطابق، "یہ نتائج ایک نسل کے لیے حوصلہ افزا ہیں جس نے انٹرنیٹ کا آغاز کیا، اور اب وہ اسے اپنے دماغ کی فٹنس کے لیے استعمال کر رہی ہے۔"
برائگھم اینڈ ویمن ہسپتال بوسٹن کے ماہر ڈاکٹر کرسٹوفر اینڈرسن نے اسے "گزشتہ 18 سے 20 سالہ تحقیق کا سب سے مربوط اور منظم تجزیہ" قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق تحقیق میں یہ وضاحت نہیں دی گئی کہ صارفین ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال کر رہے تھے — مثلاً وہ سیکھنے، سماجی روابط، تفریح یا صرف وقت گزاری کے لیے اسے استعمال کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ کتنا وقت ٹیکنالوجی کے ساتھ گزارا گیا، اور کیا اس کا کوئی خطرناک حد سے زیادہ استعمال ممکن ہے۔
ڈیجیٹل ڈیمینشیا یا کوگنیٹو ریزرو؟
یہ تحقیق "کوگنیٹو ریزرو تھیوری" کی حمایت کرتی ہے، جس کے مطابق دماغی مشق اور پیچیدہ ذہنی سرگرمیوں میں مشغول رہنے سے بڑھاپے میں دماغی صحت بہتر رہتی ہے، چاہے عمر رسیدگی کی علامات موجود ہوں۔
ڈاکٹر امیت ساچدیو کے مطابق، " ٹیکنالوجی سماجی رابطے کو بھی فروغ دے سکتی ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ تنہائی ڈیمنشیا کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔"
اعتدال میں استعمال بہتر
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ تحقیق ٹیکنالوجی کے "اندھا دھند استعمال" کی اجازت نہیں دیتی۔ "اسکرولنگ کرتے رہنا کسی ذہنی مشق کے زمرے میں نہیں آتا،" ڈاکٹر بینج نے وضاحت کی۔
ڈاکٹر ساچدیو کا کہنا ہے، " ٹیکنالوجی کو اس وقت تک استعمال کریں جب تک وہ خوشی، تخلیقی سرگرمی اور دماغی مشق کا ذریعہ بنی رہے۔ مگر جب جسمانی تھکن یا ذہنی بوجھ محسوس ہو، تو یہ ایک اشارہ ہے کہ اب وقفہ لینا ضروری ہے۔"
بزرگوں کے لیے پیغام
کئی عمر رسیدہ افراد ٹیکنالوجی سے دور رہتے ہیں کیونکہ وہ اسے سیکھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، مگر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں تک کہ ہلکی ڈیمنشیا کے مریض بھی تربیت کے بعد ان آلات کو استعمال کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، سیکھنے میں جو تھوڑی بہت دشواری محسوس ہوتی ہے، وہ دراصل ذہنی مشق کی علامت ہوتی ہے — اور یہی دماغ کو جوان رکھنے میں مددگار ہے۔