ویب ڈیسک: دنیا بھر میں حکمرانوں کا انتخاب دو طریقوں سے ہوتا ہے ایک فزیکل ووٹنگ کے ذریعے اور دوسرا پوسٹل بیلٹ کے ذریعے لیکن اب پہلی بار وزیراعظم کا انتخاب سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث مستقبل میں سربراہان مملکت کے انتخاب میں بھی سوشل میڈیا اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کی ابتدا نیپال سے ہوئی۔ نیپال کے حالیہ بڑے مظاہروں اور تشدد کے نتیجے میں صدر، وزیر اعظم اور وزراء کے استعفیٰ اور سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کی سربراہی میں عبوری حکومت کی تشکیل ہوئی ہے۔ جنہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ڈسکارڈ‘‘ کے ذریعے منتخب کیا گیا ہے۔ سشیلا کارکی کو منتخب کرنے کا فیصلہ GenZe کے مظاہرین نے کیا جنہوں نے چیٹ ایپ 'ڈسکارڈ' پر نیپال میں انقلاب لایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو ہٹانے کی درخواست مسترد،بھارتی ویب سائٹ کا دعویٰ
اس سرور میں مختلف چینلز قائم کیے گئے تھے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران اعلانات، زمینی حقائق، ہیلپ لائنز، حقائق کی جانچ پڑتال اور خبروں کی اپ ڈیٹس فراہم کیں، اس طرح یہ پلیٹ فارم GenZe تحریک کا کمانڈ سینٹر بنا۔
جب نیپالی وزیر اعظم کے پی شرما نے نوجوانوں کے احتجاج کے بعد استعفیٰ دیا تو GenZe تحریک کے نوجوانوں کے اس گروپ نے ملک کی باگ ڈور کسی قابل اور ایماندار شخص کو سونپنے کا فیصلہ کیا اور 10 ستمبر کو آن لائن ووٹنگ کرائی۔اس آن لائن ووٹنگ میں 7713 لوگوں نے اپنا ووٹ ڈالا اور اکثریت نے سشیلا کارکی کے حق میں ووٹ دیا۔
سشیلا کارکی نے 3,833 ووٹ حاصل کیے جو کہ کل پولنگ ووٹوں کا تقریباً 50 فیصد ہے۔ آن لائن الیکشن کے بعد سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے صدر رام چندر پوڈیل اور آرمی چیف جنرل اشوک راج ساگدی سے ملاقات کے بعد اپنے عہدے کا حلف لیا اور عبوری وزیر اعظم کا چارج سنبھال لیا۔