ویب ڈیسک: پاکستان کی باصلاحیت اسکواش کھلاڑی ماہنور علی نے ایک بار پھر ملک کا نام روشن کر دیا۔ انہوں نے WSF چیک جونیئر اوپن 2026 میں انڈر 15 کیٹیگری کے فائنل میں حریف کھلاڑی جوانا جیڈلیچکووا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3-2 سے شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔
یہ کامیابی ماہنور علی کے کیریئر کا 26 واں گولڈ میڈل ہے، جس کے بعد وہ پاکستان کی کامیاب ترین جونیئر اسکواش کھلاڑیوں میں مزید مضبوط مقام حاصل کر چکی ہیں۔
فائنل تک رسائی سے قبل ماہنور نے سیمی فائنل میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے تاراسووا کو 3-0 سے شکست دی۔ سیمی فائنل کے اس یکطرفہ مقابلے میں ماہنور نے 11-5، 11-6 اور 11-7 سے گیمز جیت کر اپنی برتری ثابت کی۔
ٹورنامنٹ میں علی سسٹرز کی سحرش علی نے بھی بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے انڈر 15 کیٹیگری میں وکٹوریہ سیوپلیاس کو 3-0 سے شکست دے کر برونز میڈل حاصل کیا اور پاکستان کے لیے ایک اور اعزاز اپنے نام کیا۔
دوسری جانب علی سسٹرز کی تیسری کھلاڑی مہوش علی کو گرلز انڈر 17 سیمی فائنل کے دوران ایک تشویشناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ مہوش مقابلے میں 2-1 کی برتری پر تھیں کہ چوتھے گیم کے دوران مخالف کھلاڑی سے ٹکرانے کے بعد وہ زمین پر گر گئیں، جس پر میچ فوری طور پر روک دیا گیا۔
مہوش علی کو فوری طور پر آئی سی یو منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سخت طبی نگرانی میں رکھا گیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق وہ ہوش میں آ چکی ہیں اور ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
میڈیکل رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مہوش علی کے دل پر آکسیجن کی کمی کے باعث دباؤ پڑا، جس کے نتیجے میں وہ تقریباً سات گھنٹے تک بے ہوش رہیں۔

پاکستانی اسکواش حلقوں اور شائقین نے علی سسٹرز کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے مہوش علی کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔