ویب ڈیسک:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی فیک تصاویر وائرل کرنے کا معاملہ،ایف آئی اے نے مزید مقدمات اور گرفتاریاں کر لی۔
تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہےکہ ایف آئی اے سائبر کرائم نے 15 سے زائد ملزمان پکڑ لئیے،مختلف شہروں سے پکڑے گئے ملزمان کے خلاف 18 ایف آئی آرز درج کئیے گئے ہیں،ملزمان پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں سے بھی پکڑے گئے ہیں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفرازکا کہنا ہےکہ مریم نواز کی اے آئی تصویریں بنانے والوں کے خلاف کارروائی میں ابھی تک 18 مقدمات درج کر کے 17 ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں،اس جرم میں ملوث 9 ملزمان جسمانی ریمانڈ جبکہ 8 جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں،کیس میں ملوث 2 ملزمان شہباز گل اور عمران ریاض خان اس وقت بیرون ملک ہیں،40 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی شناخت کرلی گئی ہے جبکہ مزیدا کاؤنٹس کی تلاش کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹے میں FIA سائبر کرائم کے تمام سرکلو نے جائنٹ ٹاسک فورس کی مدد سے 50 چھاپے مارے اور مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں،مزید یہ کہ ان تمام پس پردہ شر پسند عناصر جو اس تمام شر پسندی کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، کو خبر دار کیا جاتا ہے کہ ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی،کسی فرد واحد یا گروہ کو قطعی اسکی اجازت نہ دی جائے گی ۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر کا کہناہےکہ ان تمام عناصر اور ان کے ہتھکنڈوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،تمام شر پسند عناصر یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ جعلی خبریں پھیلانا اور اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تصاویر یا ویڈیوز بنا کر شیئر کرنا اور پھیلا نا خلاف قانون اور بدترین جرم ہے، اس جرم میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلا تفریق کار روائی جاری رکھی جائے گی۔
گزشتہ دنوں میں 10 مزید ایف آر کاٹی گئیں ہیں ،کیس میں اب تک ٹوٹل رجسٹرڈ ایف آئی آر کی تعداد 18 ہو گئی ہے،اب تک 17 ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں۔بیرون ملک موجود شہباز گل اور عمران ریاض کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، لاہور میں 6, فیصل آباد میں 5 ، گوجرانولہ میں 1 ، ملتان میں 2 ، پشاور میں 3 اور ایبٹ آباد میں 1 ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ہم نے چار کیٹگریز کے ملزمان گرفتار کیے ہیں،ملزمان کو 5 سے 7 سال تک کی سزائیں ہو سکتیں ہیں۔
ہم وزارت قانون کے ساتھ مل کر مضبوط کیس بنائیں ہیں،ہمارا کام کیس بنا کر چلان پیش کرنا ہے ، ملزمان کو ضمانتیں عدالت دیتی ہے،ہم نے وزارت قانون کو قانون مزید سخت بنانے کی سفارش بھیجی ہے۔پاکستان کے ملزمان بھگوڑوں کو کہوں گا ، پاکستان آئیں آپ کا ایمبولینس کے ساتھ استقبال کروں گا۔شہباز گل کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے واپس لائیں گے۔