ویب ڈیسک: اسلام آباد ائیرپورٹ پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ( ایف آئی اے) امیگریشن کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں نادرا ریکارڈ میں جعل سازی کرکے بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
حکام کے مطابق ہفتے کے روز پانچ مسافروں کو ہانگ کانگ روانگی سے قبل آف لوڈ کیا گیا، جن میں دو خواتین اور تین مرد شامل ہیں۔ ان مسافروں نے مبینہ طور پر ایجنٹ کی مدد سے نادرا ریکارڈ میں تبدیلی کروا کر غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی کوشش کی تھی۔
ایف آئی اے حکام نے انکشاف کیا کہ جعل ساز ایجنٹ نے چالاکی سے تین افراد کے نادرا ریکارڈ کو تبدیل کر کے انہیں دوسری فیملی کا حصہ ظاہر کیا۔ اس غیر قانونی اقدام کے عوض متاثرہ مسافروں کے اہل خانہ نے فی کس ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے ادا کیے تھے۔
حکام کے مطابق یہ رقم بظاہر فیملی ویزے کے تحت ہانگ کانگ لے جانے کی سہولت کے نام پر وصول کی گئی۔ ایجنٹ نے جعلی کاغذات اور ریکارڈ میں تبدیلی کے ذریعے ان افراد کو بیرون ملک روانہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا، تاہم ایف آئی اے کی مستعدی نے یہ سازش ناکام بنا دی۔
مزید برآں، ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ائیرپورٹ پر سہولت کاری میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن (پی آئی اے) کا ایک اہلکار بھی ملوث ہو سکتا ہے۔ ایف آئی اے نے مذکورہ اہلکار کو شاملِ تفتیش کر لیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک میں ممکنہ طور پر دیگر ایجنٹس اور سرکاری اہلکار بھی شامل ہو سکتے ہیں، جن تک پہنچنے کے لیے مزید چھاپے مارے جائیں گے۔
ایف آئی اے ترجمان نے واضح کیا کہ بیرون ملک جانے کے خواہشمند افراد کو چاہیے کہ وہ قانونی طریقہ کار اختیار کریں اور کسی بھی ایجنٹ کے جھانسے میں نہ آئیں۔ نادرا ریکارڈ میں جعل سازی جیسے اقدامات نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے قومی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ادارہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گا تاکہ شہریوں کو انسانی اسمگلنگ اور مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔