امریکی فنڈنگ بند ہونے پر عالمی ادارہ صحت کاملازمتوں میں کٹوتیوں کا اعلان

امریکی فنڈنگ بند ہونے پر عالمی ادارہ صحت کاملازمتوں میں کٹوتیوں کا اعلان
کیپشن: امریکی فنڈنگ بند ہونے پر عالمی ادارہ صحت کاملازمتوں میں کٹوتیوں کا اعلان

ویب ڈیسک: (علی زیدی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریسس نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے مالی امداد بند کیے جانے کے بعد ادارے کو شدید بجٹ خسارے کا سامنا ہے، جس کے باعث آپریشنز اور ملازمتوں میں بڑی کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔

چینل نیوزایشیاء کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق منگل کے روز رکن ممالک سے خطاب کرتے ہوئے، ٹیڈروس نے کہا کہ "آمدنی میں اچانک کمی نے ہمیں تنخواہوں کے حوالے سے بڑے خلا کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہمارے پاس اپنے کام کے دائرہ کار اور عملے میں کمی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔"

ڈبلیو ایچ او 2024 اور 2025 کے لیے امریکا کی مالی عدم ادائیگی کے اثرات سے دوچار ہے۔ یاد رہے کہ امریکا 2022-23 کے بجٹ کے دوران ڈبلیو ایچ او کو 1.3 ارب ڈالر فراہم کرنے والا سب سے بڑا عطیہ دہندہ تھا، جو زیادہ تر رضاکارانہ منصوبوں کے لیے دیے گئے تھے۔

لیکن امریکا نے نہ صرف 2024 کی ادائیگی نہیں کی بلکہ 2025 کی ادائیگی بھی متوقع نہیں ہے، جس کے باعث ادارہ اب اپنی تنظیم نو پر مجبور ہو گیا ہے۔

ٹیڈروس کے مطابق "ہمارا اندازہ ہے کہ 2026-27 کے بجٹ میں ہمیں تنخواہوں کی مد میں 560 سے 650 ملین امریکی ڈالر کا خلا درپیش ہو گا، جو موجودہ اسٹاف اخراجات کا تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔"

اگرچہ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب عملے میں 25 فیصد کمی نہیں، تاہم یہ ضرور کہا کہ "ہمیں اپنے کئی ساتھیوں کو الوداع کہنا پڑے گا"۔

ہیڈکوارٹرز میں بڑی تبدیلیاں، دفاتر بند ہونے کا امکان

ٹیڈروس نے بتایا کہ ابتدائی طور پر جنیوا میں قائم مرکزی دفتر میں سینئر مینجمنٹ کی تعداد 12 سے کم کر کے 7 کر دی جا رہی ہے، جبکہ ادارے کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کی تعداد 76 سے گھٹا کر 34 کر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ریجنل دفاتر بھی متاثر ہوں گے اور کچھ امیر ممالک میں موجود دفاتر کو بند کیے جانے کا امکان ہے۔

امریکی اقدامات کا عالمی اثر

ٹیڈروس نے کہا کہ امریکا کی جانب سے USAID جیسے امدادی اداروں کو تحلیل کرنے اور عالمی صحت منصوبوں کی فنڈنگ روکنے کے فیصلے نے ترقی پذیر ممالک میں شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔

اس صورتِ حال میں، ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او اب ان ممالک کی مدد پر توجہ دے گا جو "امداد پر انحصار کم کر کے خود انحصاری کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں"۔

امید کی کرن؟

ٹیڈروس نے کہا کہ اگرچہ صورتحال سنگین ہے، مگر 2022 میں کیے گئے فیصلوں کے تحت رکن ممالک نے اپنی سالانہ فیس میں اضافہ کیا ہے، جس سے 2026-27 کے لیے تنظیم کو امریکی شمولیت کے بغیر 1.07 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔

Watch Live Public News

کونٹینٹ پروڈیوسر