ویب ڈیسک: ایشین ڈیولپمنٹ بینک (ADB) نے جولائی 2025 کے لیے ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لُک رپورٹ جاری کردی، جس میں خطے کی معاشی ترقی کو متعدد عالمی چیلنجز کا سامنا قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے ٹیرف میں اضافے، عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال اور مقامی سطح پر کمزور طلب کی وجہ سے ایشیائی ممالک کی شرح نمو پر دباؤ متوقع ہے۔ بینک نے رواں سال کے لیے خطے کی مجموعی شرح نمو 4.7 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ چین کی پراپرٹی مارکیٹ میں زیادہ گراوٹ اور مختلف تنازعات کے باعث توانائی کی لاگت میں اضافہ عالمی تجارت پر مزید منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم زرعی پیداوار میں بہتری سے مہنگائی کی شرح کم ہو کر 2 فیصد کے قریب رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اے ڈی بی نے کہا ہے کہ اگر امریکا ترسیلات زر پر ٹیکس عائد کرتا ہے تو بھارت، فلپائن اور پاکستان جیسے ممالک کو زیادہ نقصان ہوگا۔
پاکستان سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ مالی سال مہنگائی میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی، اور رواں مالی سال بھی قیمتوں میں استحکام کی توقع ہے۔ پاکستان کی اقتصادی شرح نمو مالی سال 2024-25 کے دوران 4.2 فیصد رہنے کا امکان ہے، جب کہ صنعتی و خدماتی شعبوں میں بہتری متوقع ہے۔