ویب ڈیسک: لیبیا کے آرمی چیف جنرل محمد علی احمد الحداد کا طیارہ ترکیہ کے شہر انقرہ سے روانہ ہونے کے بعد حادثے کا شکار ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں طیارے کو ترکیہ کے ضلع ہایمانا میں گرنے کے لمحے کو ریکارڈ کیا گیا، جو انقرہ سے تقریباً 70 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
طیارے میں موجود جنرل الحداد اور ان کے 4 ساتھی فوجی افسران سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں لیبیا کی بری افواج کے سربراہ جنرل الفیطوری غریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمود القطاوی، چیف آف اسٹاف کے مشیر محمد الاساوی دیاب، اور فوجی فوٹوگرافر محمد عمر احمد محجوب شامل ہیں۔ حادثے میں طیارے کے عملے کے 3 ارکان بھی جان کی بازی ہار گئے۔
Libya MOURNS top general after jet CRASHES in Turkey
— RT (@RT_com) December 23, 2025
Fiery footage captures MOMENT of impact https://t.co/JZbXb5sP9Q pic.twitter.com/9KeJ7ZWrJo
لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔ جنرل الحداد مغربی لیبیا کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر تھے اور وہ اقوام متحدہ کی قیادت میں لیبیا کی منقسم فوج کو متحد کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔
Turkish security cameras captured the moment a Libyan Falcon 50 private jet crashed after taking off from Ankara Esenboğa Airport, which was carrying Muhammad Ali Ahmad Al-Haddad, Chief of Staff of Libya’s Government of National Unity. pic.twitter.com/w7ez9Z17rJ
— BRADDY (@braddy_Codie05) December 23, 2025
حادثے کا سبب: تکنیکی خرابی اور ہنگامی لینڈنگ کی کوشش
ترک حکام کے مطابق، طیارے نے پرواز کے بعد تکنیکی خرابی کی اطلاع دی اور ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی تھی۔ طیارہ ایسن بوغا ایئرپورٹ سے رات 8 بجے روانہ ہوا، اور چند منٹ بعد ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا گیا۔ اس کے بعد طیارے کو واپس ایئرپورٹ کی جانب موڑنے کی اجازت دی گئی، لیکن لینڈنگ کے دوران ریڈار سے طیارہ غائب ہو گیا اور رابطہ منقطع ہو گیا۔
⚡️ Rescue teams reach crash site of Libya’s top general’s jet near Ankara https://t.co/oy9pKbEORL pic.twitter.com/jhgnJqwZiJ
— RT (@RT_com) December 23, 2025
ترکیہ کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ طیارے نے ہایمانا کے قریب ہنگامی لینڈنگ کا سگنل دیا، جس کے بعد تمام مواصلاتی رابطہ ختم ہو گیا۔