ویب ڈیسک: مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک جامع امن معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، تاہم اس میں ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کا مقصد واضح تھا: " ایران کو جوہری افزودگی کے قابل نہ چھوڑنا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ خطے میں امن کا خواہاں ہے، مگر کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کیا جا سکتا جس میں ایران کو جوہری افزودگی کی اجازت دی جائے۔ ان کے بقول، "ہم چاہتے ہیں کہ ایران دوبارہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے راستے پر نہ جا سکے۔"
اس بیان سے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری مراکز کو نشانہ بنایا ہے، اور ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ بارہ روزہ کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد امریکی صدر نے دو طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا، تاہم مبینہ خلاف ورزیوں پر امریکہ نے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔