امریکا میں پیدائشی شہریت کے حق کے کیس سے متعلق اہم خبر آگئی

امریکا میں پیدائشی شہریت کے حق کے کیس سے متعلق اہم خبر آگئی
کیپشن: امریکا میں پیدائشی شہریت کے حق کے کیس سے متعلق اہم خبر آگئی

ویب ڈیسک: امریکی سپریم کورٹ یکم اپریل کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو حکم نامے کے خلاف مقدمے کی سماعت کرے گی، جس میں پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

پیدائشی شہریت، جسے برتھ رائٹ سٹیزن شپ کہا جاتا ہے، امریکی آئین کے تحت وہ حق ہے جس کے مطابق امریکا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ خود بخود امریکی شہری بنتا ہے۔

ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو حکم نامہ جاری کیا، جس میں غیر قانونی یا عارضی رہائشیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار شہریت سے روکنے کی ہدایت دی گئی۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام غیر قانونی تارکین وطن کے ذریعے شہریت کے حصول کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے خلاف ہے، جو ہر پیدا ہونے والے فرد کو شہریت کی ضمانت دیتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس ترمیم کا اصل مقصد سابق غلاموں اور ان کی اولاد کو شہریت دینا تھا، نہ کہ ہر بچے کو۔

یہ مقدمہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ملک کی مختلف وفاقی عدالتیں پہلے ہی اس حکم نامے پر عمل درآمد روک چکی ہیں، اور سینیٹ کی جوڈیشری سب کمیٹی نے بھی پیدائشی شہریت کو آئینی حق قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کی موجودہ تشکیل، جس میں قدامت پسند ججز کی اکثریت ہے، اس مقدمے کے فیصلے پر اثر ڈال سکتی ہے۔

Watch Live Public News