(ویب ڈیسک ) این آئی ایچ نے فلو سے بچاؤ اور کنٹرول کے اقدامات پر زور دیا۔
این آئی ایچ کے مطابق آئندہ مہینوں میں او پی ڈی اور ان ڈور مریضوں میں اضافہ متوقع ہے۔ انفلوئنزا ایک متعدی وائرل بیماری، بزرگ، بچے، حاملہ خواتین اور دائمی مریض زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر انفلوئنزا A(H3N2) کا نیا ذیلی گروپ سب کلاڈ K سامنے آ گیا۔اگست 2025 سے دنیا بھر میں H3N2 کیسز میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔جنوبی ایشیا میں انفلوئنزا کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں انفلوئنزا نما بیماری اور شدید سانس کے انفیکشن کے کیسز بڑھنے لگے۔ این آئی ایچ کے مطابق محدود طبی سہولیات کے باعث فلو سیزن شدید ہو سکتا ہے۔ این آئی ایچ نے فلو ویکسینیشن کو مؤثر ترین حفاظتی اقدام قرار دے دیا۔
دائمی امراض کے مریض، حاملہ خواتین، بزرگ اور پانچ سال سے کم عمر بچے ہائی رسک میں ہیں ۔ فلو کھانسی، چھینک اور آلودہ ہاتھوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔
این آئی ایچ نے شہریوں کو ہاتھ دھونے، ماسک اور سماجی فاصلہ اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ فلو کی علامات کی صورت میں آرام اور ہجوم سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر فلو صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ فلو سے متعلق ایڈوائزری اور آگاہی مواد این آئی ایچ ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔