ویب ڈیسک: پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رؤف نے 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے اسکواڈ سے باہر ہونے کے بعد اپنی کرکٹ میں بہتری کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی سلیکشن کمیٹی نے رواں ہفتے 15 رکنی اسکواڈ کو حتمی شکل دی، جس میں سابق کپتان بابر اعظم کو شامل کیا گیا، تاہم حارث رؤف اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو ٹیم میں جگہ نہ مل سکی۔
آسٹریلیا سے ایک خصوصی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے 31 سالہ فاسٹ بولر نے کہا کہ اس فیصلے سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اور ورلڈ کپ سے باہر ہونا ان کے کیریئر کا اختتام نہیں ہے۔
حارث رؤف کا کہنا تھا کہ“یقیناً مایوسی ہوتی ہے کہ مجھے ٹی20 ورلڈ کپ کے اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، لیکن میرا کیریئر ختم نہیں ہوا۔ میں محنت جاری رکھوں گا اور اپنی بولنگ پر مزید توجہ دوں گا۔”
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بولر نے کہا کہ کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ سے باہر ہونا ہر کھلاڑی کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے، تاہم ان کی توجہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل اپنی مہارت پر کام کر رہے ہیں اور ایشیا کپ کے بعد ان کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔
حارث رؤف نے ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل قومی ٹیم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان ٹیم ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھائے گی۔
شائقین اور مبصرین کی جانب سے ہونے والی تنقید پر بات کرتے ہوئے حارث رؤف نے کہا کہ تعمیری تنقید اور ذاتی حملوں میں واضح فرق ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی بھی شکست کے بعد شدید ذہنی دباؤ اور تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “جب پاکستان ہارتا ہے تو کھلاڑی بھی اتنا ہی دکھ محسوس کرتے ہیں۔ تنقید ٹھیک ہے لیکن بے عزتی قابلِ قبول نہیں۔”
حارث رؤف نے کہا کہ جب بھی انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی، ہمیشہ اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ڈیتھ اوورز میں بولنگ کو جدید کرکٹ کا سب سے مشکل کردار قرار دیا۔
فاسٹ بولر نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی بھی تعریف کی، جو مارچ میں اپنے 11ویں ایڈیشن میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل ایک بڑی لیگ بن چکی ہے اور مستقبل میں مزید غیر ملکی کھلاڑیوں کو اپنی جانب متوجہ کرے گی۔