(ویب ڈیسک) آسٹریلیا میں آسمان خون کی طرح سرخ ہونے کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈٰیا پر وائرل ہوئی ہیں ۔
ویسٹرن آسٹریلیا میں حال ہی میں آسمان کے حیرت انگیز طور پر خون جیسے سرخ مناظر دیکھنے میں آئے۔ یہ ڈرامائی منظر دراصل فضا میں موجود ذرات کی غیر معمولی مقدار کی وجہ سے پیدا ہوا، جس نے سرخ رنگ کو کہیں زیادہ گہرا اور نمایاں بنا دیا۔
سائنس کے مطابق سورج کی روشنی قوسِ قزح کے تمام رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے، جو فضا میں موجود گیسوں اور گردوغبار کے ذرات کے ساتھ(Interact) تعامل کرتی ہے۔ عام حالات میں آسمان نیلا نظر آتا ہے کیونکہ نیلی روشنی کی کم ویولنتھس(Wavelengths) آسانی سے بکھر جاتی ہے، خاص طور پر جب سورج سر پر ہو۔
لیکن طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت سورج کی روشنی کو فضا کی زیادہ موٹی تہہ سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے نیلے رنگ کی روشنی چھن جاتی ہے اور صرف سرخ اور نارنجی جیسے لمبی ویولینتھس(Wavelengths) والے رنگ باقی رہ جاتے ہیں۔
جب فضا میں گرد، دھواں یا آلودگی کی مقدار زیادہ ہو تو یہ سرخ رنگ اور بھی گہرا اور نمایاں ہو جاتا ہے۔ ویسٹرن آسٹریلیا میں، ساحل کے قریب بننے والے سائیکلون نریلے (Cyclone Narelle) کی طاقتور ہواؤں نے صحرا کی بڑی مقدار میں ریت کو فضا میں پھیلا دیا، جس نے اس غیر معمولی سرخی مائل آسمان کو جنم دیا۔
بڑے ذرات، جیسے گرد، ایک عمل کو جنم دیتے ہیں جسے "مائی اسکیٹرنگ" (Mie scattering) کہا جاتا ہے، جو خاص طور پر سرخ اور نارنجی رنگوں کو زیادہ شدت دیتا ہے، اور آسمان کو خون جیسا سرخ بنا دیتا ہے۔
"صبح کا سرخ آسمان" والی کہاوت بھی سائنسی بنیاد رکھتی ہے۔ یہ اکثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مغرب سے آنے والے بادلوں پر سورج کی روشنی پڑ رہی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ بارش یا طوفان قریب ہے۔