ویب ڈیسک: ڈونلڈ ٹرمپ کی حامی بائیں بازو کے سیاسی اتحاد کو گرین لینڈ الیکشن میں شکست،، آزاد گرین لینڈ کی وکالت کرنیوالی پارٹی جیت گئی ۔
رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ میں الیکشن داخلی مسائل جیسے کاروبار، ماہی گیری، پنشن، لوگوں کی روزی روٹی اور صحت کی دیکھ بھال کے ایشو پر لڑے گئے اور معتدل ڈیموکریٹس نے جینز فریڈرک نیلسن کی قیادت میں انتخابات جیت لئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر کا گرین لینڈ کی حمایت،پانامہ کینال واپس لینے کے عزم کااظہار
سابق وزیراعظم Múte B Egede کی آئی اے ڈیموکراٹٹ نامی سیاسی جماعت اب سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنیوالی پارٹی ہے اور مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے
امریکا اور ٹرمپ کی حامی سیاسی جماعت ’’ نلریک’’ مجموعی طور پر دوسرے نمبر پر رہی۔ ’’ نلریک’’ ڈنمارک سے تیزی سے آزادی کی حصول میں امریکا کا تعاون کی حامی تھی۔ ’’ نلریک’’ پارٹی نے24.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی گرین لینڈ خریدنے کی خواہش امریکی خزانے پر کتنی بھاری؟
گرین لینڈ کے الیکشن میں فتح یاب ہونے والی جماعت ڈیموکراٹٹ کے رہنما اور صنعت اور معدنیات کے سابق وزیر جینز فریڈرک نیلسن کہتے ہیں کہ گرین لینڈ کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، "ہم کل ہی آزادی نہیں چاہتے، ہم ایک اچھی بنیاد چاہتے ہیں۔
کامیاب پارٹی ڈیموکراٹٹ گرین لینڈ کی ڈنمارک سے بتدریج آزادی کے حق میں ہے۔ الیکشن میں اس پارٹی نے 29.9 فیصد ووٹ حاصل کیے جو کہ 2021 کے الیکشن کے مقابلے میں 9.1 فیصد زیادہ ہیں۔برسراقتدار پارٹی "انوئٹ اتاق اتیگیت" بھی گرین لینڈ کی بتدریج آزادی کی حامی ہے، صرف 36 فیصد ووٹ حاصل کر سکی۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ اور پاناما کینال پر قبضہ امریکاکے تحفظ کے لئے ضروری ہے، ٹرمپ
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ڈنمارک کے نیم خود مختار علاقے کو امریکہ کا حصہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے کیونکہ وہ اسے امریکی سلامتی کے مفاد میں بہت اہم جانتے ہیں۔
گرین لینڈ کے لوگوں کی اکثریت اس بات سے اتفاق نہیں کرتی۔ گرین لینڈ صرف 57 ہزار کی آبادی والا وسیع جزیرہ ہے جو زمین کے شمالی حصے میں واقع قطبی علاقے آرکٹک میں ہے۔
وزیر اعظم میوٹ اگیڈ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ وہ الیکشن کے نتائج کے احترام کرتےہیں اور وہ مخلوط حکومت پر کسی بھی نئی تجویز کو سننے کو تیار ہیں۔
گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ
گرین لینڈ ڈنمار ک کی سابق نو آبادی ہے اور 1953 کے بعد سے یہ ڈنمارک کے زیر انتظام ہے۔ 1979 میں گرین لینڈ نے کچھ خود مختاری حاصل کی تھی جب اس کی پہلی پارلیمان وجود میں آئی۔
تاہم، ڈنمارک کواب بھی گرین لینڈ کے خارجہ تعلقات، دفاع اور مالی پالیسی پا کنٹرول حاصل ہے۔ ڈنمارک ہر سال تقریبأ ایک ارب ڈالر اس کی معیشت کے لیے مختص کرتا ہے۔
2009 میں گرین لینڈ کو ریفرنڈم کے ذریعہ مکمل آزادی حاصل کرنے کا حق ملا تھا۔
تاہم، جزیرے نے ابھی تک یہ اقدام ان خدشات کی وجہ سے نہیں اٹھایا کہ ڈنمارک کی اقتصادی امداد کے بغیر اس کا معیار زندگی گر جائے گا۔