پنجاب کے دریاؤں میں تباہ کن سیلاب، لاکھوں متاثر، امدادی کارروائیاں تیز تر

پنجاب کے دریاؤں میں تباہ کن سیلاب، لاکھوں متاثر، امدادی کارروائیاں تیز تر
کیپشن: پنجاب کے دریاؤں میں تباہ کن سیلاب، لاکھوں متاثر، امدادی کارروائیاں تیز تر

ویب ڈیسک: بھارتی آبی جارحیت کے بعد پنجاب کے بڑے دریاؤں، راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس کے باعث متعدد بند ٹوٹ گئے، بستیاں ڈوب گئیں اور لاکھوں افراد متاثر ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق سیلاب کے باعث اب تک 17 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں، ہزاروں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

سیلابی ریلوں کے نتیجے میں پنجاب کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے جبکہ سیکڑوں دیہات مکمل طور پر زیرِ آب آگئے ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق بنیادی ڈھانچے اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم اصل صورتحال پانی اترنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

لاہور میں شاہدرہ اور راوی سائفن پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہے۔ شاہدرہ پر بہاؤ ایک لاکھ 97 ہزار کیوسک تک جا پہنچا جبکہ راوی سائفن پر یہ دو لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا۔ اگرچہ انتظامیہ نے تیاریوں کو تسلی بخش قرار دیا ہے لیکن ماہرین کے مطابق صورتحال غیر معمولی ہے۔

دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد اور ہیڈ خانکی پر پانی کے بہاؤ میں کچھ کمی ریکارڈ کی گئی ہے مگر خطرہ اب بھی موجود ہے۔ ہیڈ مرالہ اور ستلج کے گنڈا سنگھ والا سمیت کئی مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔ متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے، زرعی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں اور ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

سیالکوٹ، گجرات، نارووال اور گوجرانوالہ میں جانی نقصان کی اطلاعات ملی ہیں، جبکہ ظفروال، ساہیوال، بہاول نگر اور مظفرگڑھ میں درجنوں دیہات ڈوب گئے۔ کئی مقامات پر پل اور سڑکیں بہہ جانے سے ٹریفک معطل ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک 51 ہزار سے زائد افراد کو سیلابی علاقوں سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔ ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوراً ہیلپ لائن 1122 پر اطلاع دیں۔

ریلیف کمشنر پنجاب نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو متاثرہ علاقوں میں موجود رہنے اور عوام کے انخلا و تحفظ کو اولین ترجیح بنانے کی ہدایت دی ہے۔