وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  سہیل  آفریدی نے 2170 ارب روپے کا بجٹ 2026-27 پیش کر دیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  سہیل  آفریدی نے 2170 ارب روپے کا بجٹ 2026-27 پیش کر دیا

(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  سہیل  آفریدی نے 2170 ارب روپے کا خیبر پختونخوا بجٹ 2026-27 پیش کر دیا۔ 48 ارب روپے کا بجٹ خسارہ کسی بیرونی قرض کے بغیر اندرونی بچت سے پورا کیا جائے گا۔

اسپیکرخیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی  کے زیر صدارت خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس ہوا۔وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی بجٹ تقرریر کے دوران اپوزیشن نے احتجاج اور شور شرابہ کیا۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے اسمبلی میں اپوزیشن کو جواب دیا کہ حوصلہ رکھیں ۔

وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا  کہ 92 ایم پی ایز نے مل کر فیصلہ کرلیا ہےہ کہ بجٹ پیش کریں گے۔آج کا بجٹ 48 ارب روپے کے خسارے کیساتھ پیش ہوگا۔خیبرپختونخوا کے عوام نے تیسری بار مسلسل تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے۔مزمل اسلم نے بہترین انداز میں فنانس کو چلایا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ  یہ بجٹ عمران خان کے وژن کے مطابق "خوشحال خیبر پختونخوا" کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ترقی کے ثمرات کسان، مزدور اور ہر گھر تک پہنچیں گے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ بجٹ میں 48 ارب روپے کا خسارہ متوقع ہے،  2013 سے صوبے کے عوام نے پی ٹی آئی پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، یہ بجٹ اسی شفاف طرزِ حکمرانی کا تسلسل ہے۔

ملازمین اور محنت کشوں کیلئے ریلیف کا اعلان

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے ملازمین کیلئے درج ذیل ریلیف اقدامات کا اعلان  کیا۔

تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ:

وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ایڈ ہاک ریلیف 2022 اور 2025 کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز ہے۔

الاؤنسز میں اضافہ:

کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ اور اسپیشل کنوینس الاؤنس کو 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 کم از کم اجرت:

 وزیر اعلیٰ نے کہا کہ غریب طبقے کو ریلیف دینے کیلئے ہم کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45,000 روپے کر رہے ہیں، جو وفاقی حکومت کی مقرر کردہ اجرت سے بھی زیادہ ہے۔

"ہم نئے ٹیکس لگانے کے بجائے دائرہ کار بڑھانے پر یقین رکھتے ہیں"

وزیر اعلیٰ نے صوبائی محاصل کا ہدف 182.41 ارب روپے مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔ انہوں نے ٹیکسوں میں درج ذیل بڑی چھوٹ کا اعلان کیا:

 کاروباری برادری کو تاریخی ریلیف:

وزیر اعلی   سہیل آفریدی نے کہا کہ تجارتی لاگت کم کرنے کیلئے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کو 2 فیصد سے گھٹا کر صرف 0.75 فیصد کیا جا رہا ہے، جو ملک میں سب سے کم شرح ہے اور اس سے ٹیکس کے بوجھ میں 62 فیصد کمی آئے گی۔

 پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ:

 انہوں نے اعلان کیا کہ 5 مرلے تک کے رہائشی اور کمرشل مکانات کو پراپرٹی ٹیکس سے مکمل چھوٹ دی جا رہی ہے جس سے 2 لاکھ سے زائد گھرانے مستفید ہوں گے۔

 پروفیشنل ٹیکس کا خاتمہ:

انہوں نے کہا کہ  کم از کم آمدنی والے افراد اور گریڈ 1 سے 6 تک کے سرکاری ملازمین پر سے پروفیشنل ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔

 سابقہ فاٹا/پاٹا کا تحفظ:

انہوں نے یقین دلایا کہ سابقہ فاٹا اور پاٹا کیلئے ٹیکس ریلیف کی پالیسی برقرار رہے گی۔

صحت کارڈ پلس اور تعلیم کیلئے اربوں روپے کے فنڈز:

وزیر اعلیٰ   سہیل آفریدی نے صحت اور تعلیم کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبوری حکومت کی جانب سے معطل کیے گئے صحت کارڈ پلس پروگرام کا بجٹ جاری مالی سال کے 41 ارب سے بڑھا کر اگلے سال کیلئے 50.4 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

 ہسپتالوں اور ادویات کا بجٹ:

انہوں نے کہا کہ  سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کیلئے فنڈز بڑھا کر 14.263 ارب جبکہ ایم ٹی آئی (MTI) ہسپتالوں کا بجٹ 65 ارب سے بڑھا کر 80 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ پشاور میں 4 ارب کی لاگت سے نیا جنرل ہسپتال بنے گا۔

تعلیمی بجٹ میں اضافہ:

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی  نے  کہا کہ  تعلیم کا مجموعی بجٹ بڑھا کر 468.379 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ مفت کتب کیلئے 8.5 ارب اور آؤٹ آف اسکول بچوں کو لانے کیلئے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یونیورسٹی طلبہ کو 2 ارب روپے کی لاگت سے مارک اپ فری لون دیا جائے گا۔

پولیس بجٹ میں 185 فیصد اضافہ اور امن و امان کی ترجیح:

صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ امن و امان کا قیام ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پولیس کا بجٹ ماضی کے 67 ارب روپے سے بڑھا کر 191.393 ارب روپے (185 فیصد اضافہ) کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی جدید خریداری (Procurement Plan) کیلئے 14.5 ارب روپے دیے جا رہے ہیں جس سے جدید اسلحہ، نائٹ وژن کیمرے، بلٹ پروف گاڑیاں اور اینٹی ڈرون گنز خریدی جائیں گی۔ قبائلی اور سرحدی اضلاع بشمول وزیرستان، کرم اور اورکزئی میں سیف سٹی منصوبوں اور ڈرون پولیسنگ کیلئے خطیر رقم رکھی گئی ہے۔

پشاور ریوائٹلائزیشن اور علاقائی ترقیاتی پیکیجز

وزیر اعلیٰ نے صوبے کے مختلف علاقوں کیلئے اہم ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کی عظمتِ رفتہ بحال کرنے کیلئے 120 ارب روپے کے 29 منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جن کیلئے اگلے سال 36 ارب روپے مختص ہوں گے۔ رنگ روڈ فلائی اوورز، انڈر پاسز اور الیکٹرک بسوں کی خریداری اس کا حصہ ہیں۔

 خوشحال ہزارہ پروگرام:

انہوں نے کہا کہ  تاریخ میں پہلی بار ہزارہ کے عوام کی محرومیوں کے ازالے کیلئے 200 ارب کی لاگت سے 119 منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جس کیلئے ابتدائی طور پر 4.2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

 چترال اور قبائلی اضلاع:

انہوں نے کہا کہ  اپر چترال کیلئے 5 ارب روپے کا انفراسٹرکچر پیکیج اور ضم اضلاع کے قبائل کیلئے 31.5 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیجز دیے جا رہے ہیں۔

گرین گروتھ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا فروغ

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ٹیکنالوجی اور ماحولیات کے حوالے سے اپنے وژن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اتھارٹی کے قیام کیلئے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پشاور میں شہریوں کو فری پبلک وائی فائی فراہم کرنے کیلئے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ اور گرین انرجی کے تحت الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کے استعمال کو فروغ دینے کیلئے 2.5 ارب روپے کی مارک اپ فری سبسیڈی دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ  ضم شدہ اضلاع میں گھروں کی سولرائزیشن کیلئے 13.23 ارب روپے جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں گھروں کو سولر پر منتقل کرنے کیلئے 1 ارب سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب کے اختتام پر تمام اراکینِ اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ صوبے کی خوشحالی اور روشن مستقبل کے اس روڈ میپ کو کامیاب بنانے کیلئے متحد ہو جائیں، اور علامہ اقبال کے شعر "افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر، ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ" پر اپنی تقریر ختم کی۔