وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 27-2026ء کا بجٹ پیش کر دیا

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 27-2026ء کا بجٹ پیش کر دیا

(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ مالی سال 27-2026ء کا بجٹ پیش  کردیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس سپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ بجٹ 2026-27 پیش کر رہے ہیں ۔

اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں شدید احتجاج کیا گیا۔اپوزیشن ارکان نے بجٹ نا منظور کے نعرے لگائے۔بعد ازاں اپوزیشن نے بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے نئے مالی سال کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ  بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے  عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم  کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا جبکہ صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کردی گئی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بجٹ کا خسارہ 36.9 ارب روپے متوقع ہے، آمدنی 3.525 کھرب روپے رکھی گئی۔سندھ کا بجٹ 4 اصولوں آئینی حقوق، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام اور عوامی فلاح پر مبنی ہے،وفاق کے ساتھ تعاون کے تحت ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کرکے 400 ارب روپے کرنا پڑا۔ وفاق کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ  نے تعلیم، زراعت، انشورنس اور روزگار کے شعبوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا،سوشل پروٹیکشن پیکیج کے لیے 13.2 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے،سوشل پروٹیکشن میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں،سوشل پروٹیکشن پیکیج کے تحت بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی امدادی اسکیمیں جاری رہیں گی۔

وزیراعلیٰ سندھ  نے کہا کہ پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سے منسلک بیوٹی سیلونز اور اوورسیز ایمپلائمنٹ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے لیے رعایتی ٹیکس برقرار ہے۔

انہوں نے  انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر لاگو ٹیکسز میں کمی کا اعلان کیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ زرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ کی حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی،زرعی سپر ٹیکس کی شرح کو بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا،نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا حجم 400 ارب روپے مقرر ہے،لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے سب سے زیادہ 121.6 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے،ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے مختص کیا گیا ہے،آبپاشی منصوبوں کیلئے 30.9 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے، تعلیم کے شعبے کے لئے 25.9 ارب روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے، صحت کے شعبے کے لیے 17.4 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے،زراعت اور لائیوسٹاک کے ترقیاتی کاموں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔

مراد علی شاہ  نے کراچی میں 'سندھ انٹرنیشنل فائننشل سینٹر' قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

انہوں نے کہا کہ فائننشل سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا۔انہوں نے  کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنائے کا عزم  دہرایا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورٹ قاسم کی بنیاد رکھی،شہید بینظیر بھٹو کے وژن کے تحت اب چیئرمین بلاول بھٹو کیٹی بندر کی نئی معاشی تقدیر رقم کرے گا،پورٹ قاسم کے بعد کیٹی بندر سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا عظیم سنگِ میل بننے جا رہا ہے،کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں منسلک ہوگا، کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا، ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے وژن کے تحت کراچی کو عالمی سرمایہ کاری کے مرکز  بنا رہے ہیں،شہر کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کیا جا رہا ہے،ڈیجیٹل سندھ وژن کے تحت گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر اور اے آئی اکانومی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے،بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق سندھ کو قابلِ تجدید توانائی کا مرکز بنایا جا رہا ہے،پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سولر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے،غریب گھرانوں کو مفت سولر سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے متوسط طبقے کے لیے رعایتی سولر فنانسنگ پروگرام متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔

انہوں نے کہا کہ کسان دوست وژن کے تحت زرعی کلیکٹوز کے ذریعے چھوٹے ہاریوں کو نئی معاشی طاقت دی جا رہی ہے،ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کچرے کو معاشی وسائل میں تبدیل کیا جائے گا،سندھ میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے نئے دروازے کھولے جا رہے ہیں،ہم سندھ کو جنوبی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بنانے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت تجارت، ٹیکنالوجی، فنانس اور توانائی کا علاقائی مرکز بنایا جا رہا ہے،سندھ حکومت کا اگلا مرحلہ فلاح سے خوشحالی اور خوشحالی سے معاشی قیادت کی جانب سفر ہے۔

سندھ حکومت  نے کچرے سے ایندھن اور تجارتی مصنوعات بنانے کا ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام متعارف  کرایدا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کاربن کریڈٹس پیدا ہوں گے اور ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی۔

سندھ حکومت  نے چھوٹے کسانوں کیلئے خصوصی قانون سازی کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے آبادگاروں کے لیے زرعی اجتماعی اداروں کے قیام کی قانون سازی ہوگی،ہاریوں کو مشینری، مالیات، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی،موسمیاتی چیلنجز کے باوجود کسان ملک کی غذائی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ہمارے محنت کش معیشت کا پہیہ رواں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، اساتذہ اور طبی عملہ خلوص اور لگن سے قوم کی خدمت کر رہے ہیں،معاشی مشکلات کے باوجود سرمایہ کار اور کاروباری طبقہ ترقی کے سفر میں شریک ہے۔

  مراد علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ سال میں ریکارڈ 900 ارب روپے سے زائد ترقیاتی سرگرمیوں پر خرچ کیے،شاہراہِ بھٹو سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا شہری انفراسٹرکچر منصوبہ ہے،کراچی کی ترقی کے لیے جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام ناگزیر ہے،60.7  ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی شاہراہِ بھٹو عوام کے لیے  بڑی سہولت ہے،39 کلومیٹر طویل جدید کوریڈور قیوم آباد سے ایم نائن  موٹروے سے منسلک کرتا ہے،شاہراہِ بھٹو کراچی کے ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے،کراچی کا پہلا بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے شاہراہِ بھٹو کو جدید مالیاتی حکمتِ عملی اور مؤثر منصوبہ بندی کی کامیاب مثال قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو کی تعمیر سے سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً 25 منٹ رہ گیا،شاہراہِ بھٹو منصوبے سے شہریوں کے وقت اور ایندھن کی بچت میں نمایاں بہتری آئی ہے،شاہراہِ بھٹو روزانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیوں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہے،شاہراہِ بھٹو کراچی میں تیز، محفوظ اور مؤثر آمد و رفت کے نئے دور کا آغاز ہے،بڑی شہری شاہراہوں کو جدید طرز پر استوار کرنا سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،شاہراہِ بھٹو منصوبہ کراچی کی معاشی سرگرمیوں اور رابطوں کے فروغ میں اہم سنگِ میل ہے،شاہراہِ بھٹو منصوبے کی تکمیل سے صنعتی، تجارتی اور رہائشی علاقوں کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہونگے، شاہراہِ بھٹو کراچی کے شہری انفراسٹرکچر میں تاریخی اضافہ ثابت ہوگا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سال 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے 'سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام' کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کئے گئے،عالمی تعاون سے 1.675 ارب ڈالر کی لاگت سے مزید 17 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کے فنڈز حاصل کر لیے گئے،سیلاب متاثرین مکانات کے منصوبے میں لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا،صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی، ایس آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی اور جے پی ایم سی کی خدمات میں توسیع کی جائے گی ،1123 ٹیلی طبیب سروس اور 1122 ایمبولینس نیٹ ورک مزید مضبوط بنایا گیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ  نے کہا کہ  محکمہ تعلیم کے تحت 1300 سے زائد اسکولوں کی عمارات تعمیر اور اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں،نوجوانوں کی امیدیں اور امنگیں ہمیں بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے متحرک رکھتی ہیں،ٹیکنالوجی بیسڈ پولیسنگ سے کراچی میں گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں 67 فیصد کمی آئی ہےکراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 54 فیصد کمی آئی، ٹریفک حادثات اور ہلاکتوں میں بھی واضح کمی آئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ بجٹ شہریوں کے تحفظ، انسانی ترقی اور روشن مستقبل کی تعمیر کا عکاس ہے،ہر بچے کو تعلیم، ہر شہری کو صحت اور ہر نوجوان کو مواقع میسر کرنا پیپلز پارٹی کا وژن ہے،سندھ حکومت کے بجٹ سے ہر ضلع کو خوشحالی اور ترقی کے ثمرات حاصل ہوں گے۔