(ویب ڈیسک)وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ 27-2026 پیش کردیا۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت شروع ہوگیا۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اجلاس میں شریک ہیں ۔
وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ ایران امریکہ امن معاہدہ پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔قائد محمد نواز شریف ، وزیر اعظم شہباز شریف کو امن معاہدے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی امن معاہدے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہاکہ مریم نواز نے پنجاب میں انقلابی اقدامات کیے۔مسلم لیگ ن نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔معرکہ حق میں کامیابی کی دنیا معترف ہے۔ایران امریکا جنگ نے دنیا کی معیشت کی بنیاد ہلا دی۔مریم نواز شریف نے کفایت شعاری کی عمدہ مثال قائم کی۔پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں پر آنچ نہیں آنے دی گئی۔وزیروں کی تنخواہوں پر کٹ لگایا گیا۔
وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں کیے گئے کام کو ہر فورم پر سراہا گیا۔حکومت نے معیشت بچانے کیلئے ہر ممکن کردار ادا کیا۔سیلاب کے دوران عوام کو ہر ممکن امداد فراہم کی گئی۔آج پنجاب میں عوام کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔پنجاب کا ہر ضلع اور ہر تحصیل ترقی کے سفر میں شریک ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ دفاع پاکستان کی مضبوطی کیلئے پنجاب نے بڑے بھائی ہونے میں اہم کردار دا کیا۔پنجاب نے 546 ارب روپے وفاق کو فراہم کیے۔پنجاب پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔پنجاب میں ریکارڈ مدت میں عوام کی فلاح کیلئے ادارے قائم کیے گئے ہیں ۔پنجاب میں 4 لاکھ سے زائد افراد کو میرٹ پر نوکریاں دی گئیں۔
وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ تمام معاشی مشکلات کے باوجود وزیر اعلیٰ مریم نواز کا عوام پر نیا بوجھ نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ پراپرٹی ٹیکس کے لیٹ پیمنٹ سرچارج میں ریلیف دیا گیا، پراپرٹی ٹیکس اب ماہانہ کی بجائے سہ ماہی بنیادوں پر وصولی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 'سیلف اسیسمنٹ اسکیم' کے تحت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے 5 فیصد رعایت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی چھوٹ 95 فیصد سے بڑھا کر 99 فیصد ہوگی۔لاہور: زرعی ٹیکس ، 'فکسڈ ٹیکس اسٹرکچر' کے تحت ضروری اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔ صوبے بھر میں 'کپاس فیس' مکمل طور پر ختم کردی گئی۔ کپاس فیس کے خاتمے سے کسانوں اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی مجموعی قومی پیداوار میں پنجاب کا حصہ 55.7 فیصد ہے،پنجاب کی آبادی تقریباً 13 کروڑ اور ملازمت یافتہ افرادی قوت 3 کروڑ 58 لاکھ افراد پر مشتمل ہے، پنجاب کی فی کس آمدنی 1904 ڈالر ہے، گزشتہ 3 سال کے مقابلے میں 47 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا، حکومت نے معاشی تبدیلی کے لیے 'پنجاب انوویٹو فار ویلیو' کے نام سے جامع منصوبہ ترتیب دے دیا۔
انہوں نے پنجاب کی معیشت کی ترقی کے لیے 'پیوٹ' روڈ میپ متعارف کروانے کا اعلان کیا۔
وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ نوجوانوں کی ترقی، تعلیم اور روزگار کے لیے 39 ارب روپے کا جامع پروگرام متعارف کروایا گیا ہے، کچے کے علاقوں کی پائیدار ترقی کے لیے 'کچہ ایریا ڈیولپمنٹ پروگرام' کی منظوری دی گئی ہے، کچے کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کے لیے 38 ارب 86 کروڑ روپے کی لاگت سے 53 اسکیمیں متعارف کروائی گئی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ معاشی تبدیلی کا تین سالہ منصوبہ تقریباً 1995 ارب روپے کی مجموعی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے، معاشی منصوبے میں 1090 ارب روپے سرکاری سرمایہ کاری جبکہ 905 ارب پرائیویٹ سیکٹر سے آئیں گے، اگلے تین سالوں میں صنعت کے شعبے میں تقریباً 1188 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، زراعت میں تقریباً 586 ارب اور لائیو اسٹاک میں 230 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، سیاحت میں 642 ارب اور ایکوا فارمنگ کے شعبے میں 190 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کرتا ہوں، شعبہ مہارت میں 186 ارب اور آئی ٹی سیکٹر میں 64 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ تین سالہ پروگرام کے نتیجے میں 6 ارب 80 کروڑ ڈالر کی اضافی برآمدات متوقع ہیں، معاشی ترقی کے اس بڑے منصوبے سے 1 لاکھ 62 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے، پائیدار معاشی ترقی صرف سرکاری وسائل سے ممکن نہیں بلکہ نجی شعبے کی شراکت لازمی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی شرح نمو بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی، معاشی شرحِ نمو گزشتہ چار سالوں کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر 38 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، سمندر پار پاکستانیوں کے بھیجے گئے زرِ مبادلہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.2 فیصد اضافہ ہوا، ملک کے مجموعی زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 22 ارب 67 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ قومی معیشت کے استحکام اور مضبوطی کا واضح اظہار ہے۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار بجٹ تجاویز کے لیے 'پری بجٹ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس' کا انعقاد کیا گیا، نئے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی بجٹ کا حجم 5903 ارب 46 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے، صوبے کا مجموعی بجٹ حجم رواں مالی سال کے مقابلے میں 10.7 فیصد زیادہ ہے، نئے مالی سال میں جاری اخراجات کا تخمینہ 1962 ارب 93 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی بجٹ کے تحت 2638 منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے، 2638 ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل 1150 ارب روپے کی لاگت سے کی گئی، یہ منصوبے مالی سال 2024-25 کے ترقیاتی اخراجات سے 16 فیصد زیادہ ہیں، وسائل کے مؤثر استعمال اور اخراجات کو معقول بنانے کی پالیسی سے ترقیاتی بجٹ کے لیے 752 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کے لیے 4390 ارب 94 کروڑ روپے کا تخمینہ ہے، این ایف سی کے تحت پنجاب کا تخمینہ گزشتہ مالی سال کی نسبت 8.1 فیصد زیادہ ہے، نئے مالی سال کے لیے صوبائی آمدن کے حصول کا ہدف 1209 ارب 86 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کے لیے 528 ارب 50 کروڑ روپے کی وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، پنجاب ریونیو اتھارٹی کا یہ ہدف مالی سال 2025-26 کے مقابلے میں 55.4 فیصد زائد ہے، بورڈ آف ریونیو کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 86 ارب 19 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو 124 ارب روپے کی وصولی کا ہدف دیا گیا ہے، ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کا ہدف رواں مالی سال کی نسبت 77 فیصد کا نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے، صوبائی نان ٹیکس محصولات کا تخمینہ 461 ارب 17 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، صوبائی نان ٹیکس محصولات کا یہ تخمینہ سال 2025-26 کی نسبت 52 فیصد زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے مالی سال 2026-27 میں تعلیم کے شعبے کے لیے 750 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، تعلیم کے بجٹ میں ترقیاتی مد کے لیے 63 ارب 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں، تعلیمی شعبے کے غیر ترقیاتی مد میں 686 ارب 80 کروڑ روپے شامل کیے گئے ہیں، نئے مالی سال کے بجٹ میں شعبہ تعلیم کے لیے مختص رقم مجموعی بجٹ کا 15 فیصد سے زائد ہے، تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری، ڈیجیٹل سہولیات اور معیاری تعلیم تک رسائی کو مزید وسعت دی جائے گی، وزیر اعلیٰ پنجاب لیپ ٹاپ پروگرام کے تحت 1 لاکھ 10 ہزار جدید لیپ ٹاپس فراہم کیے جائیں گے،لیپ ٹاپس کی فراہمی کا یہ منصوبہ 27 ارب روپے کی خطیر لاگت سے شروع کیا گیا ہے، مالی سال 26-2025 میں اب تک 42 ہزار لیپ ٹاپس تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، اسکول میل پروگرام کے تحت پنجاب کے 13 اضلاع کا انتخاب کیا گیا ہے، صوبے کے 44 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار تھے، حقائق کو مدنظر رکھ کر پروگرام شروع کیا گیا، غذائیت کی کمی دور کرنے کے پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب روپے تجویز دی گئی ہے۔ پیما (PEIMA) کے تحت اسکولوں میں اضافی کلاس رومز اور بنیادی سہولیات کی بحالی کا آغاز کردیا، خطرناک اسکول عمارات کی بحالی کے لیے 40 ارب روپے کے پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں 244 کالجز میں آئی ٹی لیبس قائم کی جائیں گی، کالجوں میں آئی ٹی لیبس کا قیام 6 ارب 90 کروڑ روپے کی لاگت سے عمل میں لایا جا رہا ہے، آئی ٹی لیبس کے اس بڑے منصوبے سے 4 لاکھ 47 ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے، مریم نواز شریف سینٹر فار اکیڈمک لیڈرشپ اور اسٹیم لیبارٹریز کے لیے بجٹ تجویز کی گئی ہے، نواز شریف سینٹرز آف ایکسیلنس پروگرامز کے لیے مجموعی طور پر 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ تعلیمی منصوبوں سے لاکھوں بچوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم میسر آئے گی، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نجی شعبے کے اشتراک سے معیاری تعلیم کے لیے کوشاں ہے۔ مالی سال 26-2025 میں پی ای ایف کے پروگرام پر 36 ارب 50 کروڑ روپے صرف کیے گئے، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اقدامات سے 38 لاکھ بچوں کو تعلیمی مواقع میسر آئے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 27-2026 میں صحت کے شعبے کے لیے 500 ارب 62 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، صحت کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 424 ارب 32 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ، صحت کے شعبے میں ترقیاتی اخراجات کی مد کے لیے 76 ارب 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں ، شعبہ صحت کے لیے مختص کل رقم صوبے کے مجموعی بجٹ کا 10 فیصد سے زائد ہے، نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کی تعمیر 75 ارب کی لاگت سے جاری ہے، کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے لیے آئندہ مالی سال میں 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا اور جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کا قیام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کارڈیالوجی ہسپتالوں کے منصوبوں پر مجموعی طور پر 28 ارب 94 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور کے پرانے بلاکس کی بحالی پر 2 ارب 45 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، نشتر ہسپتال ملتان کے بلاکس کی بحالی اور اپ گریڈیشن کا 5 ارب روپے کی لاگت سے آغاز کر دیا گیا۔ مریم نواز ہیلتھ کلینک اقدام پر 21 ارب روپے کی لاگت سے عملدرآمد جاری ہے، پروگرام کے تحت 2508 بنیادی مراکزِ صحت اور 115 دیہی مراکزِ صحت کو آؤٹ سورس کیا گیا، کلینک آن ویلز منصوبے پر رواں مالی سال میں 3 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کیے گئے،کلینک آن ویلز سے 3 کروڑ 7 لاکھ سے زائد مریضوں کو طبی فائدہ پہنچا، کلینک آن ویلز کے لیے آئندہ مالی سال میں 3 ارب 85 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہارٹ سرجری پروگرام پر 3 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی، وزیر اعلیٰ ڈائلسیز پروگرام کے لیے 8 ارب 66 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، وزیر اعلیٰ ٹرانسپلانٹ پروگرام پر 3 ارب 64 کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے، دل، ڈائلسیز اور ٹرانسپلانٹ پروگراموں سے مجموعی طور پر 14 لاکھ سے زائد مریض مستفید ہوئے، ذیابیطس کے مریضوں کو انسولین اور ادویات کی فراہمی کے لیے 1 ارب 5 کروڑ روپے صرف کیے جائیں گے، شمالی اور وسطی پنجاب میں 434 بنیادی مراکزِ صحت کی بحالی اور اپ گریڈیشن کی جائے گی، بنیادی مراکزِ صحت کی اپ گریڈیشن کے اس منصوبے پر 9 ارب 60 کروڑ روپے لاگت آئے گی، آئندہ مالی سال میں نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کرتاہوں ، نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کا بڑا منصوبہ 169 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی تبدیلی اور غربت کا خاتمہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافہ اور معاشی مواقع کی فراہمی عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ ہیں، کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے 47 ارب 70 کروڑ روپے کی لاگت سے اسکیمیں متعارف کروائی جائیں گی، سی ایم پنجاب آسان کاروبار کارڈ، آسان کاروبار فنانس اور ایکسپورٹ فنانس کے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے، آسان کاروبار منصوبوں کے تحت 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد کاروباری افراد کو 125 ارب کے بلا سود قرضے فراہم کیے گئے، قائد اعظم بزنس پارک شیخوپورہ میں 4 ارب روپے کی لاگت سے 'گارمنٹ سٹی' کا قیام عمل میں لایا گیا، گارمنٹ سٹی کے قیام سے ٹیکسٹائل صنعت اور وہیکل سیکٹر کو جدید سہولیات میسر آئیں گی، فیصل آباد میں 6 ارب روپے کی لاگت سے 'علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی' کی تعمیر کا منصوبہ اگلے مالی سال میں شامل ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اسپورٹس گڈز سیکٹر کی ترقی کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے اہم پروگرام متعارف کروائے جائیں گے، کھیلوں کے سامان کے لیے FIFA، ICC اور ITF معیار کی ٹیسٹنگ فیسلٹیز اور سرٹیفیکیشن پروگرام شروع ہوں گے، کھیلوں کے سامان کی صنعت کی ترقی سے ایک ہزار سے زائد برآمدی ادارے مستفید ہوں گے، اسپورٹس انڈسٹری کے اقدامات کے نتیجے میں 100 ملین ڈالر کی اضافی برآمدات متوقع ہیں، کٹلری اور ہینڈ ٹولز سیکٹر میں 4 ارب روپے کی لاگت سے آرٹس اینڈ کرافٹس ویلیج قائم کیا جائے گا، کٹلری سیکٹر کی اپ گریڈیشن سے ٹیکنالوجی کی معاونت فراہم کی جائے گی جس سے 2500 نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، سرامکس سیکٹر میں گجرات انسٹی ٹیوٹ کو 25 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید بھٹیوں اور ٹیسٹنگ سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا، فینز (پنکھا) سیکٹر میں 70 کروڑ روپے کی لاگت سے سمبڑیال مٹیریل ٹیسٹنگ لیب قائم کی جائے گی، سمبڑیال مٹیریل ٹیسٹنگ لیب کے قیام سے یورپی اور دیگر ریگولیٹڈ منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی، صنعتی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 35 ارب کی لاگت سے انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ فیصل آباد، وہاڑی، رحیم یار خان، بہاولپور اور آئی ای سی میں صنعتی اسٹیٹس کی ترقی کی جائے گی، صنعتی اسٹیٹس کے اس پروگرام سے ایک ہزار سے زائد نئی صنعتی اکائیاں قائم ہوں گی، انڈسٹریل اسٹیٹس کی ترقی سے 80 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری اور 40 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتی کلسٹرز کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید 20 ارب روپے کا پروگرام بھی شامل ہے۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ کلسٹر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت کلسٹرز میں 100 فیصد مالی معاونت دی جائے گی، صنعتی شعبے کی پائیدار ترقی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے ماحولیاتی معیار کی پاسداری لازمی ہے، نئے مالی سال میں 25 ارب روپے کی لاگت سے کمبائنڈ ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ پیکیج متعارف کرایا جائے گا، اس اقدام کے تحت چار صنعتی اسٹیٹس میں 70 MGD ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی استعداد پیدا کی جائے گی، صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے 193 ارب روپے کی لاگت سے 'اسٹیپ' فنانسنگ کا آغاز کیا جائے گا، اسٹیپ (STEP) فنانسنگ کے تحت 463 صنعتی منصوبوں کو رعایتی مالی معاونت فراہم کی جائے گی، رعایتی مالی معاونت کے ان صنعتی منصوبوں سے مجموعی طور پر 300 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک ہوگی، صنعتی ترقی کے ان اقدامات سے 29 ہزار 400 براہِ راست ملازمتیں پیدا ہوں گی، انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اقدامات کے نتیجے میں 5 ارب 60 کروڑ ڈالر کی اضافی برآمدات متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے لیے 100 ارب روپے کی لاگت سے 'انڈسٹریل گروتھ ایکسلریٹر' پروگرام کا آغاز کیا گیا، پروگرام کے تحت 2 صنعتی اسٹیٹس اور 4 ایگرو پروسیسنگ پارکس کے لیے مشینری اور سولر پر معاونت دی جائے گی، ڈیجیٹل تجارت کے فروغ کے لیے 70 کروڑ روپے کی لاگت سے ای-بزنس اور ای-کامرس ریڈینس پروگرام شروع کیا جائے گا، ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والی کاروباری وصولیاں اب تک 6 ارب 90 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں، نئے مالی سال میں 4 مراکز کے تحت 2000 کاروباری اداروں کو ای-کامرس ہبز سے منسلک کیا جائے گا، ای-کامرس اقدامات سے سالانہ 2 کروڑ 45 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل فروخت اور برآمدات متوقع ہیں، باغبانوں اور فلوریکلچر کے شعبے کی ترقی کے لیے اسٹیپ (STEP) پروگرام کے تحت 30 کروڑ روپے کی مالی معاونت کی جائے گی ، فلوریکلچر سیکٹر میں کولڈ چین اور رساو و ترسیل کے نظام کو بہتر بنا کر 100 سے زائد اداروں کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبے کے معدنی وسائل سے زیادہ معاشی فائدے کے لیے 'سی ایم پنجاب ویلیو ایڈیشن فنانسنگ فار پنک سالٹ' اسکیم تجویز دی گئی ہے، پنک سالٹ اسکیم کے لیے بجٹ میں 1 ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، پنک سالٹ کے اقدام کے تحت معدنی و صنعتی شعبے سے وابستہ 200 اداروں کو رعایتی مالی معاونت ملے گی، عوام کو صاف پانی اور سینیٹیشن کی فراہمی کے لیے نئے بجٹ میں مجموعی طور پر 507 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، واٹر اینڈ سینیٹیشن کے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کی مد کے لیے 187 ارب 10 کروڑ روپے تجویز دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز مالی سال 26-2025 میں 505 ارب کی مجموعی لاگت سے کیا گیا، اس پروگرام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے سے پنجاب کے 66 بڑے شہروں کے عوام مستفید ہوں گے، پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 31 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، مثالی گاؤں پروگرام کے لیے 59 ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے، پروگرام کے ذریعے پنجاب کے 10 ڈویژنز میں 485 دیہات کو جدید بنیادی سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا، مثالی گاؤں پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، بے گھر اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے 'اپنی چھت اپنا گھر پروگرام' کے تحت ہاؤسنگ قرضے جاری کیے گئے، اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک 1 لاکھ 73 ہزار ہاؤسنگ قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، ہاؤسنگ اسکیم میں قرضوں کے حصول کے لیے اب تک 255 ارب روپے صرف کیے جا چکے ہیں، پروگرام کے تحت اب تک 1 لاکھ 1 ہزار سے زائد گھر تعمیر جبکہ 32 ہزار سے زائد گھر زیرِ تعمیر ہیں، اگلے مالی سال کے دوران اس پروگرام کے تحت 2 لاکھ افراد کو 300 ارب روپے کے بلا سود قرضے دیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ رواں سال کے اہم ترین سماجی تحفظ کے منصوبوں میں 'ہمت کارڈ' پروگرام بھی شامل ہے، خصوصی افراد کی معاونت کے لیے 4 ارب 83 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، خصوصی افراد کے لیے مختص فنڈز سے اب تک 1 لاکھ خصوصی افراد مستفید ہو چکے ہیں، آئندہ مالی سال میں ہمت کارڈ اور خصوصی افراد کے اس منصوبے کے لیے 5 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں ، لائیو اسٹاک کے شعبے میں 3 ارب روپے کی لاگت سے 'لائیو اسٹاک کارڈ پروگرام' شروع کیا گیا، لائیو اسٹاک کارڈ کے ذریعے اب تک 29,265 مویشی پال حضرات کو مالی معاونت فراہم کی گئی، لائیو اسٹاک کارڈ پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 4 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے، مریم نواز سوشل سیکیورٹی راشن کارڈ کے تحت اب تک 24 ارب 87 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں، راشن کارڈ کے ذریعے صنعتی کارکنوں اور کم آمدن والے خاندانوں کو بنیادی ضروریات میں معاونت فراہم کی گئی، مریم نواز سوشل سیکیورٹی راشن کارڈ کے لیے نئے مالی سال 27-2026 میں 40 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی، دھی رانی پروگرام کے تحت 5000 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کا شاندار انعقاد کیا گیا، دھی رانی پروگرام کے تحت اب تک اجتماعی شادیوں پر 1 ارب 77 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، دھی رانی پروگرام کے تسلسل کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1 ارب 70 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں ، خصوصی افراد کے لیے مصنوعی اعضاء، سماعتی آلات اور دیگر معاون سہولیات کے لیے 1 ارب روپے کی لاگت تجویز کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں 1 ارب روپے کی لاگت سے 'مریم کو بتائیں' پروگرام کا آغاز کیا گیا، 'مریم کو بتائیں' پروگرام کے تحت اب تک 13 ہزار 757 شہریوں کو مالی معاونت فراہم کی گئی، رمضان 2026 کے تحت 'رمضان نگہبان پیکیج' کے لیے 39 ارب روپے کی خطیر رقم صرف کی گئی، رمضان پیکیج کے ذریعے تقریباً 34 لاکھ مستحق خاندانوں کو 10 ہزار روپے کی مالی امداد ملی، امام مساجد کی مالی معاونت کے لیے 9 ارب 22 کروڑ روپے صرف کیے گئے ہیں، امام مساجد فنڈ کے تحت صوبے کے 60 ہزار آئمہ مساجد کو ماہانہ 25 ہزار روپے فراہم کیے گئے، امام مساجد اسکیم کے تسلسل کے لیے اگلے مالی سال میں 18 ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی، مالی سال 26-2025 کے دوران اقلیتی برادریوں اور خواتین کی سماجی شمولیت کے متعدد اقدامات کیے گئے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اقلیتی برادری کی فلاح کے لیے مالی سال 27-2026 میں بھی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، رواں سال گوردواروں، مندروں، گرجا گھروں اور قبرستانوں کی تعمیر و بحالی پر 2 ارب 11 کروڑ روپے خرچ ہوئے، مذہبی و تاریخی مقامات کی تعمیر و ترقی کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، مستحق اقلیتی خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے 3 ارب روپے کی لاگت سے 'CM Minority Card' متعارف کرائے جائیں گے، اقلیتی برادری کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے 4 ارب روپے کی لاگت سے متعدد منصوبے تجویز کیے گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی کا مطلب صرف معاشی خود مختاری نہیں بلکہ ایک پورے قبیلے کی ترقی ہے، جب خواتین کو یکساں مواقع ملتے ہیں تو پورا گھر، معاشرہ اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، پنجاب بھر میں خواتین کو بااختیار اور روزگار بنانے کے لیے 1 ارب روپے کی لاگت سے آئی ٹی ٹریننگ دی گئی، خواتین کے لیے خصوصی آئی ٹی ٹریننگ پروگرام سے اب تک 2400 خواتین مستفید ہو چکی ہیں، خواتین آئی ٹی ٹریننگ کے اس مقصد کے لیے اگلے مالی سال میں 15 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں، قانونی شعبے میں خواتین کی مؤثر شمولیت اور پیشہ ورانہ سہولیات کے لیے پنجاب بھر میں 'لیڈی بار رومز' کی تعمیر کا آغاز کردیا گیا، پنجاب بھر میں لیڈی بار رومز کی تعمیر کے منصوبے پر 1.4 ارب روپے کی لاگت آئے گی، لیڈی بار رومز کا قیام خاتون وکلاء کے لیے محفوظ، باوقار اور سازگار پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی کے لیے اہم پیش رفت ہے، منصوبے کی تکمیل کے لیے مالی سال 27-2026 میں 332 ملین روپے مختص کیے جا رہے ہیں، لیڈی بار رومز کی تعمیر کے اس اقدام سے تقریباً 2 لاکھ افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے، خواتین اور نوجوانوں کو مارکیٹ کے مطابق فنی تربیت دینے کے لیے 'ایس ای ایچ آر' پروگرام متعارف کرایا گیا ہے، ہنرمندی کے اس پروگرام کے تحت 97 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ اسمارٹ سیف سٹیز سی ایم تحصیلز، سمارٹ سیف سٹیز پراجیکٹ اور ریجنل ڈیٹا سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، سیف سٹی اور ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے پنجاب میں جدید ڈیجیٹل سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو وسعت دی جا رہی ہے، سمارٹ سیف سٹیز کے ان جاری منصوبوں پر مجموعی طور پر 47 ارب 10 کروڑ روپے لاگت آئے گی، منصوبوں کے تحت جدید کیمروں، ڈیٹا اینالیٹکس اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا مربوط نظام فروغ پا رہا ہے، جدید نگرانی کے نظام سے جرائم کی روک تھام، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھے گی، سمارٹ سیکیورٹی اقدامات سے پنجاب کے 19 اضلاع اور بڑی تحصیلوں کی آبادی مستفید ہو رہی ہے، کچے کے علاقوں میں 2 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے پولیس اسٹیشنز، پولیس پوسٹس اور پکیٹس کی تعمیر تجویز کی گئی ہے، پنجاب کے 28 اضلاع میں 14 ارب 21 لاکھ روپے کی لاگت سے 'کرائم سین یونٹس' قائم کیے جا رہے ہیں، کرائم سین یونٹس جرائم کے شواہد کے سائنسی حصول، پیکنگ اور تحفظ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت دینے کے لیے 'چیف منسٹر سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام' کا آغاز کیا جائے گا، چیف منسٹر سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام پر 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ہنرمندی کے اس پروگرام کے تحت اب تک 5000 نوجوان فائدہ اٹھا چکے ہیں، اگلے مالی سال کے لیے سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں 26 کروڑ روپے کی رقم مختص کیے گئے ہیں ، نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع دینے کے لیے 1 ارب 44 کروڑ روپے کی لاگت سے 'سی ایم سکلڈ پنجاب پروگرام' کا آغاز کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جدید اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام معاشی ترقی، شہری روابط اور عوامی سہولت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، حکومت پنجاب نے 143 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ سسٹمز کی تعمیر کا آغاز کر دیا، فیصل آباد اور گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹمز کے لیے اگلے مالی سال میں 26 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ، پنجاب بھر میں 94 ارب روپے کی لاگت سے 1100 ماحول دوست الیکٹرک بسوں کی خریداری کا منصوبہ جاری ہے، الیکٹرک بسوں کے اس اقدام سے پنجاب کے 9 ڈویژنز میں جدید، کم لاگت اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ ملے گا، منصوبے کے تحت 400 سے زائد ماحول دوست گاڑیاں سڑکوں پر رواں دواں جبکہ مزید 700 بسیں مستقبل قریب میں نظر آئیں گی، الیکٹرک بسوں کے لیے 18 ارب 90 کروڑ روپے کی لاگت سے 'اربن بس ڈپوز' قائم کرنے کا منصوبہ شروع کیا، آئندہ مالی سال میں 168 ارب روپے کی لاگت سے 2000 ماحول دوست الیکٹرک بسیں لانے کا بڑا منصوبہ تجویز کیا گیا ہے، الیکٹرک بس سروس کے دائرہ کار کو پنجاب کے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹرز تک وسعت دی جائے گی، پنجاب بھر میں ڈویژنل اور تحصیل سطح پر بس ڈپوز کی تعمیر کے لیے 164 ارب روپے کی لاگت سے 21 منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں ، ٹرانسپورٹ اقدامات کا مقصد صوبے بھر میں عوام کو محفوظ، معیاری اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں سڑکوں کی بحالی و مرمت پر 290 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے، سڑکوں کی بحالی کے لیے 'سڑکیں بحال پنجاب خوشحال پروگرام' اور 'روڈز ریسٹوریشن پروگرام' کامیابی سے جاری ہیں، راولپنڈی رنگ روڈ ری ہیبلیٹیشن پروگرام فیز-II اور قائد اعظم انٹرچینج تا واہگہ ہارڈ رسی روڈ منصوبے بجٹ کا حصہ ہیں، ملتان، وہاڑی روڈ، فیصل آباد اور چنیوٹ روڈز کی اپ گریڈیشن اور کچہری چوک راولپنڈی کا منصوبہ بھی جاری ہے، پچھلے مالی سالوں میں شروع ہونے والی سڑکوں کی تکمیل کے لیے موجودہ بجٹ میں 36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، آئندہ مالی سال کے لیے 5 ارب روپے کی لاگت سے 'انٹیگریٹڈ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر امپروومنٹ' پروگرام کا آغاز کیا جائے گا، اس پروگرام کا مقصد مربوط انفراسٹرکچر اور بلدیاتی خدمات کی فراہمی کے ذریعے متوازن شہری ترقی کو فروغ دینا ہے، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے 100 ارب روپے کی لاگت سے متعارف کرائی جائے گی، وزیر اعلیٰ روڈ انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت مختلف اضلاع میں سڑکوں کی تعمیر، بحالی اور اپ گریڈیشن کی جائے گی، اس تسلسل میں اسٹریٹجک روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 20 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کا کہنا ہے کہ توانائی کا شعبہ معاشی ترقی، صنعتی استحکام اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے، محکمہ توانائی کے لیے آئندہ مالی سال میں ترقیاتی اخراجات کی مد میں 4 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ، محکمہ توانائی کے غیر ترقیاتی اخراجات کی مد کے لیے بجٹ میں 1 ارب 43 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، قابلِ تجدید توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے 12 ارب 86 کروڑ روپے کی لاگت سے پروگرام جاری ہے، رینیوایبل انرجی ڈویلپمنٹ سیکٹر انویسٹمنٹ پروگرام کے تحت گرین انرجی کو فروغ دیا جا رہا ہے، 'سی ایم فری سولر پینل اسکیم' کے تحت 9 ارب 97 کروڑ روپے کی لاگت سے 94 ہزار 483 گھرانوں کو سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ مفت سولر پینل اسکیم کے تسلسل کے لیے آئندہ مالی سال میں 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن پروگرام کے لیے بجٹ میں 8 ارب 50 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، پروگرام کے تحت 38 واسا سائٹس اور 51 تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں 30 میگاواٹ کے سولر سسٹم نصب کیے گئے، آئندہ مالی سال میں انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ کی آگاہی کا عمل شروع کیا جائے گا، توانائی کی بچت کے لیے 'پنجاب ایپلائینس پرفارمنس اینڈ انرجی لیب' قائم کرنے کی تجویز بجٹ کا حصہ ہے، انڈسٹریل فیسلیٹیشن تھرو انوویٹو انرجی سلوشن کے تحت تقریباً 12 ارب کی مجموعی لاگت سے جدید صنعتی حل متعارف کرایا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب اربن لینڈ سسٹمز اینہانسمنٹ پروگرام کے لیے 26 ارب 44 کروڑ روپے کی لاگت مختص کی گئی ہے، پلس پروگرام کے ذریعے زمینوں کے ریکارڈ، اراضی کے انتظام اور عوامی خدمات کی ڈیجیٹائزیشن کو فروغ ملے گا، پنجاب میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے بجٹ میں 2 ارب روپے کی لاگت تجویز کی گئی ہے، ڈیجیٹل رابطوں کے فروغ اور شہریوں کو جدید سہولیات دینے کے لیے نئے مالی سال میں 11 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف فری وائی فائی انیشیٹو کے لیے 32 کروڑ 51 لاکھ روپے کی لاگت تجویز دی گئی ہے، مفت انٹرنیٹ سے طلبہ، نوجوانوں، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو معلومات اور سرکاری خدمات تک آسان رسائی ملے گی، فری وائی فائی منصوبے نے صوبے میں ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ اور شہری سہولیات میں نمایاں کردار ادا کیا، آئی ٹی شعبے میں 8 ارب 82 کروڑ روپے کی لاگت سے 'چیف منسٹر آئی ٹی انٹرنشپ پروگرام فیز-II' کا آغاز ہوگیا، آئی ٹی انٹرنشپ اسکیم کے تحت آئندہ چار برسوں میں 30 ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو انٹرنشپ کے مواقع دیے جائیں گے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اس کے علاوہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں میاں نواز شریف کے نام سے منسوب اسکیم کے لیے 9 ارب روپے کی لاگت تجویز دی گئی ہے۔