وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا

 وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا

(ویب ڈیسک)وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔اپوزیشن کا وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران احتجاج اور شرابہ ،اپوزیشن نے نامنظور نامنظور کے نعرے لگائے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز ہے،بجٹ تیاری میں تعاون  پر وزیر اعظم اور بلاول بھٹو کا مشکور ہوں ۔بھارتی جارحیت کا پاکستانی فورسز نے بھرپور جواب دیا۔بنیان مرصوص کی کامیابی ہماری تاریخ کا روشن حصہ ہے۔بنیان مرصوص میں عظیم کامیابی پر فخر ہے، مضبوط دفاع معاشی قوت میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک معاہدہ انتہائی اہم ہے۔سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے باعث دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت ملی۔دفاعی صنعت زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بن چکی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان نے ثالث کا اہم کردار ادا کیا۔چین کے ساتھ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں ۔پاک ، چین دوستی حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ اقوام کی تقدیر سے جڑا رشتہ ہے۔ایران امریکا کی جنگ کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ہر گھر کے بجٹ پر غیر متوقع بوجھ آیا۔وزیر اعظم کی ہدایت پر 128 ارب روپے کی راہ راست سبسڈی دی۔حکومت کے بروقت اور مدبرانہ فیصلوں کی وجہ سے ملک میں ایندھن کی کمی نہیں ہوئی۔بین الاقوامی اداروں بشمول فچ نے پاکستان کی  ریٹنگ کو مستحکم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایک مشکل معاشی سفر شروع کیا تھا۔حکومت نے انتھک محنت سے مشکل حالات پر قابو پایا ہے۔امریکا ، ایران جنگ اور سیلاب کے باوجود  شرح نمو 3۔7 فیصد رہی۔صنعتوں کی پیداواری صلاحیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔صنعتوں کی شرح نمو 6۔1 فیصد ، خدمات کے شعبے میں 4۔1 فیصد ترقی ہوئی۔معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک  پہنچ چکا ہے۔

وزیر خزانہ نے گزشتہ 2 سال میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی ہوئی ہے۔پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11۔5 فیصد پر آگیا۔زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے زیادہ ہوچکے ہیں ۔افراط زر کی شرح 23۔4 فیصد سے کم ہوکر 4۔5 فیصد تک آگئی تھی۔ایس ای سی پی میں 39 ہزار نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا۔دنیا کی بڑی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں ۔حکومت کے قائم کردہ ٹیکنالوجی زون میں 250 سے زیادہ  کمپنیوں نے کاروبار شروع کیا۔25 ہزار سے زائد ٹیک پروفیشنلز کو روزگار ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے التوا کے شکار نجکاری ایجنڈے کو عملی شکل دیں گے۔پی آئی اے کو 185 ارب روپے کے عوض نجی شعبے کے حوالے کیا۔ایف بی آر میں اصلاحات کے نتائج حوصلہ افزاء رہے۔3 سال میں ٹیکس وصول 2 گنا ہوگئی ہے۔موجودہ مالی سال کے اختتام پر ٹیکس وصولی 13 ہزار ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ چھوٹے کاروبار ، نوجوانوں اور خواتین تک معاشی ترقی کے اثرات پہنچ رہے ہیں ۔نجی شعبے کے تعاون سے چھوٹے کاروبار کیلئے قرض فراہم کیے جا رہے ہیں ۔کم لاگت گھروں کیلئے وزیر اعظم ہاؤسنگ سکیم کے ذریعے 5 فیصد مارک اپ پر قرضے فراہم کر رہے ہیں ۔ای بائیکس اور ای رکشوں کی خریداری کیلئے سبسڈائزڈ فنانسنگ فراہم کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال 16 لاکھ 70 ہزار تاجر ڈیجیٹل پیمنٹ نظام سے جڑے ہیں ۔ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت سے 133 ملین صارفین مستفید ہو رہے ہیں ۔ترسیلات زر کا 92 فیصد بینک اکاؤنٹس کے ذریعے موصول ہو رہا ہے۔