بجٹ 2026-27: سولر پینلز پر سیلز ٹیکس نہ بڑھانے کا فیصلہ، صارفین کو بڑا ریلیف

بجٹ 2026-27: سولر پینلز پر سیلز ٹیکس نہ بڑھانے کا فیصلہ، صارفین کو بڑا ریلیف
کیپشن: بجٹ 2026-27: سولر پینلز پر سیلز ٹیکس نہ بڑھانے کا فیصلہ، صارفین کو بڑا ریلیف

ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے مہنگی بجلی سے متاثرہ صارفین کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے سولر توانائی کے فروغ اور گھریلو صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے پیشِ نظر سولر پینلز پر موجودہ ٹیکس شرح میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت سولر پینلز پر سیلز ٹیکس میں کسی اضافے کی تجویز شامل نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سولر پینلز پر دی گئی ٹیکس رعایت ختم کرنے اور سیلز ٹیکس کی شرح 1 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم حکومت نے اس مطالبے کو بجٹ تجاویز میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب بجٹ سے قبل ہی سولر آلات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق مختلف صلاحیتوں کے سولر پینلز کی قیمتوں میں 4 ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد 585، 645 اور 720 واٹ کے پینلز 26 ہزار سے 32 ہزار روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔

سولر پینلز کے ساتھ ساتھ انورٹرز کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف ماڈلز کے سولر انورٹرز 20 ہزار روپے تک مہنگے ہو چکے ہیں، جبکہ گھریلو صارفین کے لیے استعمال ہونے والے 1 سے 3 کلو واٹ صلاحیت کے انورٹرز کی قیمتوں میں 5 ہزار سے 10 ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے میں صارفین کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔