ویب ڈیسک: نئے وفاقی بجٹ میں بینک سے کیش نکلوانے پر کتنا ٹیکس کٹے گا اور نان فائلرز پر مزید کون کون سی پابندیاں لگیں گی، اس حوالے سے تفصیلات سامنے آ گئیں۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت آج مالی سال 2025-26 کے لیے 17 ہزار 600 ارب روپے کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ بجٹ سے قبل وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا، جس میں فنانس بل اور تنخواہوں و پنشن میں اضافے سمیت بجٹ تجاویز کی منظوری دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وفاق کی آمدن 19 ہزار 300 ارب روپے تک رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 14 ہزار 130 ارب روپے مقرر کیا جا رہا ہے، جس میں سے 57 فیصد حصے کے مطابق تقریباً 8300 ارب روپے صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کی مد میں منتقل ہوں گے۔
آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارہ ساڑھے 6 ہزار ارب روپے تک رہنے کا امکان ہے جب کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8500 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1000 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
نئے وفاقی بجٹ میں نان فائلرز (وہ افراد جو انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرواتے) کے لیے بینک سے کیش نکلوانے پر ٹیکس شرح میں اضافہ اور اضافی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ذیل میں تمام اہم نکات تفصیل سے پیش کیے جا رہے ہیں:
بینک سے کیش نکلوانے پر ٹیکس شرح میں اضافہ
نان فائلرز ایک دن میں 50,000 روپے سے زیادہ کیش نکلوانے پر 0.6٪ ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ نئی تجویز کے مطابق اس شرح کو دوگنا کر کے 1.2٪ کرنے کا ارادہ، یعنی اگر کوئی 100,000 روپے نکلوانے کی کوشش کرتا ہے،تو اسے 1,200 روپے بطور ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔