وفاقی بجٹ 2025-26: ریئل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے خوشخبری

وفاقی بجٹ 2025-26: ریئل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے خوشخبری
کیپشن: وفاقی بجٹ 2025-26: ریئل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے خوشخبری

ویب ڈیسک: آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ریئل اسٹیٹ اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے مختلف مراعات دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جس میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے خاتمے اور اسٹامپ ڈیوٹی میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کا مقصد اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معیشت کو متحرک کرنا ہے۔

حکومتی تجاویز میں بلڈرز اور ڈیولپرز کی باقاعدہ رجسٹریشن کا آغاز بھی شامل ہے، تاکہ شعبے کو دستاویزی بنایا جا سکے۔ اسی طرح پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر ودہولڈنگ ٹیکس میں نرمی کی سفارشات پر بھی غور ہو رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے تعمیراتی میدان میں سرمایہ کاری کو مزید پرکشش بنانے کے لیے ایف ای ڈی مکمل ختم کرنے اور دیگر مالی مراعات فراہم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ غیر مقیم پاکستانیوں کو پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس میں سہولت دی جا سکتی ہے، خاص طور پر نان فائلرز کے لیے ایکسائز ڈیوٹی میں تبدیلی متوقع ہے۔

دوسری جانب، معاشی تھنک ٹینک "اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ" نے بھی بجٹ سے قبل حکومت کو تجاویز دی تھیں، جن میں پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس کی شرح کو 1.5 سے 2 فیصد تک محدود کرنے کی سفارش کی گئی تھی، جب کہ موجودہ شرح 3 سے 4 فیصد ہے۔ تھنک ٹینک نے جائیداد کی خریداری پر ٹیکس ختم کرنے، ایڈوانس ٹیکس اور سیلز ٹیکس ہٹانے اور ٹیکس قوانین کے سیکشن 7 ای اور 9 اے میں نرمی کی بھی تجویز دی۔

اگر یہ سفارشات منظور ہو جاتی ہیں تو ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آ سکتی ہے، اور تعمیراتی صنعت ایک بار پھر معاشی نمو میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔