ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں تعمیراتی و ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم تجاویز پیش کی ہیں، جن کا مقصد سرمایہ کاری میں اضافہ اور کم آمدنی والے افراد کے لیے رہائش کو ممکن بنانا ہے۔
جائیداد کی خریداری پر ٹیکس میں نمایاں کمی
بجٹ تجاویز کے مطابق جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو مختلف سطحوں پر کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
4% سے کم کر کے 2.5%
3.5% سے کم کر کے 2%
3% سے کم کر کے 1.5%
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز
گزشتہ سال عائد کی جانے والی 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، جو کمرشل پراپرٹی، پلاٹس اور گھروں کی منتقلی پر لاگو تھی، مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
سستے گھروں کے لیے ٹیکس کریڈٹ اور قرض کی سہولت
کم آمدنی والے افراد کی رہائش کے مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے 10 مرلے تک کے گھروں اور 2000 اسکوائر فٹ تک کے فلیٹس پر ٹیکس کریڈٹ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے مورگیج فنانسنگ کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع مالیاتی نظام متعارف کرانے کا ارادہ ہے، جس سے سستے گھروں کی تعمیر کو آسان بنایا جائے گا۔
اسلام آباد میں اسٹامپ ڈیوٹی میں نمایاں کمی
اسلام آباد کی حدود میں جائیداد کی خریداری پر اسٹامپ پیپر ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کر کے صرف 1 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ گھروں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
یہ اقدامات حکومت کے اس عزم کا اظہار ہیں کہ وہ تعمیراتی صنعت کو دوبارہ متحرک کرے اور کم آمدنی والے افراد کو باعزت رہائش فراہم کرنے میں سہولت دے۔