آبنائے ہرمز پر تعاون نہ کرنے پر ٹرمپ کے اتحادیوں سے شکوے

آبنائے ہرمز پر تعاون نہ کرنے پر ٹرمپ کے اتحادیوں سے شکوے
کیپشن: آبنائے ہرمز پر تعاون نہ کرنے پر ٹرمپ کے اتحادیوں سے شکوے

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ دینے پر نیٹو سمیت اتحادی ممالک سے شکوے کرتے ہوئے ایران پر بھی سخت الزامات عائد کیے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتا تو وہ اسے امریکا کے خلاف استعمال کر دیتا اور ممکنہ طور پر اسرائیل سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ کو نشانہ بناتا۔

انہوں نے کہا کہ ایران تباہی پھیلا کر خطے کی قیادت کرنا چاہتا ہے اور پرتشدد عناصر کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتے ہیں انہیں ان کے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ دنیا میں جنگ نہیں چاہتے لیکن موجودہ صورتحال میں ایران اپنے پڑوسی ممالک پر میزائل حملے کر رہا ہے۔ انہوں نے بعض اتحادی ممالک پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے دفاع کے لیے امریکا ہمیشہ موجود رہا لیکن ضرورت پڑنے پر اتحادی ساتھ نہیں دے رہے۔

انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ جیتنے کے بعد جنگی طیارے بھیجنے کی پیشکش کی گئی جس کی اب ضرورت نہیں رہی، اور اس حوالے سے انہوں نے برطانوی قیادت پر مایوسی کا اظہار کیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے نیٹو کے دفاع کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے مگر مشکل وقت میں اتحادی غیر حاضر رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک آبنائے ہرمز کے معاملے پر تعاون کے لیے تیار نہیں، اس کے باوجود امریکا نے چین، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے دوبارہ مدد کی اپیل کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت کمزور ہو چکی ہے اور ملک میں مذاکرات کے لیے مؤثر قیادت موجود نہیں۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کہا کہ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم جنگ جلد ختم ہونے کی توقع ہے۔

امریکی صدر نے اینٹی فراڈ ٹاسک فورس سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے کا بھی اعلان کیا۔