ویب ڈیسک: عباس عراقچی نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ حالیہ رابطوں سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا آخری رابطہ اسٹیو وٹکوف سے اس وقت ہوا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔
My last contact with Mr. Witkoff was prior to his employer's decision to kill diplomacy with another illegal military attack on Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 16, 2026
Any claim to the contrary appears geared solely to mislead oil traders and the public.
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا آخری رابطہ اس وقت ہوا جب "ان کے آجر نے ایران پر ایک اور غیر قانونی فوجی حملے کے ذریعے سفارتکاری کو ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا"۔
عباس عراقچی نے کہا کہ اس کے برعکس سامنے آنے والے تمام دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد تیل کی منڈیوں اور عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
اس سے قبل امریکی خبر رساں ادارے Axios نے دعویٰ کیا تھا کہ حالیہ دنوں میں دونوں کے درمیان براہِ راست رابطے کا چینل دوبارہ فعال ہوا ہے اور عراقچی نے وٹکوف کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجے۔
دوسری جانب Drop Site News کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسٹیو وٹکوف نے عباس عراقچی کو پیغامات بھیجے، تاہم ایرانی حکام کے مطابق ان پیغامات کو نظر انداز کیا گیا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔