ویب ڈیسک:پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے متعدد علاقوں پر انڈیا کے میزائل حملوں کے تقریباً 36 گھنٹوں کے بعد ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب انڈیا کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں میں دراندازی کی کوشش کے دوران پاکستانی فوج نے متعدد ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
جمعرات کو پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک سافٹ کِل (تکنیکی طریقے سے) اور ہارڈ کِل (ہتھیاروں کے ذریعے) سے 30 سے زائد اسرائیلی ساخت کے ہیروپ ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز کی شناخت اسرائیلی ساختہ ہیروپ کے نام سے ہوئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل نے بتایا کہ اسرائیل میں تیار ہونے والے یہ ڈرون 2019 سے انڈیا کے پاس ہیں۔
یہاں ہم اپنے قارئین کو بتارہے ہیں کہ اسرائیلی ساختہ ہیروپ میزائل کیوں بھیجا گیا اور یہ کام کیسے کرتا ہے:
اسرائیل کی دفاعی کمپنی IAI (Israel Aerospace Industries) کی جانب سے تیار کردہ "ہیروپ" ایک جدید اور خطرناک قسم کا ڈرون ہے، جسے عام زبان میں " خودکش ڈرون" یا "لوئٹرنگ مونیشن" کہا جاتا ہے۔ یہ ڈرون صرف معلومات اکٹھی کرنے کے لیے نہیں، بلکہ براہ راست حملہ آور ہونے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
1. ہیروپ ڈرون کیسے کام کرتا ہے؟
ہیروپ کا اصل ہدف دشمن کے ریڈار سسٹمز، کمانڈ پوسٹس یا دیگر اہم عسکری تنصیبات ہوتے ہیں۔ اس کی کارروائی کا عمل کچھ اس طرح ہوتا ہے:
a. لانچنگ (Launching):
ہیروپ کو ایک موبائل لانچر یا کسی زمینی پلیٹ فارم سے فضا میں چھوڑا جاتا ہے۔
b. پرواز اور تلاش (Loitering & Target Search):
یہ ڈرون فضا میں اپنے ہدف کی تلاش میں کئی گھنٹوں تک پرواز کرسکتا ہے۔ یہ جدید کیمروں اور الیکٹرانک سینسرز سے لیس ہوتا ہے جو دشمن کے سگنلز، حرارت یا حرکات کو شناخت کرتے ہیں۔
c. ہدف پر حملہ (Strike Phase):
جیسے ہی ہدف کی شناخت ہو جاتی ہے، ہیروپ براہ راست اس پر جھپٹتا ہے اورہدف سے ٹکرا کر خود کو دھماکے سے تباہ کر دیتا ہے۔ یعنی یہ ڈرون واپس نہیں آتا — یہی وجہ ہے کہ اسے "کامی کازی ڈرون" بھی کہا جاتا ہے۔
2. ہیروپ کی خصوصیات
رینج: تقریباً 1000 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔
پرواز کا دورانیہ: 6 گھنٹے سے زائد فضا میں رہ سکتا ہے۔
دھماکہ خیز مواد: اس میں نصب لگ بھگ 23 کلوگرام تک کا وارہیڈ ہدف سے ٹکرانے کے بعد پھٹ جاتا ہے۔
خاموشی: پروپیلر موٹر کی بدولت یہ بہت کم آواز پیدا کرتا ہے، جس سے اس کا پتا لگانا مشکل ہوتا ہے۔
آخری لمحے میں واپسی یا تبدیلی: اگر ہدف بدل جائے یا غلط ہو تو حملے سے عین پہلے بھی آپریٹر اسے روک یا نیا ہدف دے سکتا ہے۔
3. استعمال کی جگہیں اور شہرت
ہیروپ کو اسرائیل نے مختلف جنگی محاذوں پر استعمال کیا ہے، بشمول:
آذربائیجان-آرمینیا تنازع میں، جہاں آذربائیجان نے اسے آرمینی اہداف پر استعمال کیا۔
اسرائیل نے خود بھی کئی مواقع پر دشمن راڈار یا میزائل سسٹمز کو ختم کرنے کے لیے ہیروپ کا استعمال کیا۔
تازہ ترین استعمال بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلاف کیا گیا ہے۔جس میں بھارت کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔ پاکستانی افواج نے کامیابی اور مہارت سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کو مارگرایا ہے۔

5. خطرناک مگر مؤثر ہتھیار
ہیروپ جیسے ڈرونز جنگ کے میدان میں نئے دور کے ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہ نہ صرف روایتی حملوں سے زیادہ مؤثر ہیں بلکہ دشمن کو نفسیاتی طور پر بھی خوفزدہ کرتے ہیں کیونکہ یہ "کہیں سے بھی آ سکتا ہے"۔
ٹیکنالوجی کی نئی جنگ
ہیروپ ایک مثال ہے کہ اب جنگیں صرف ٹینکوں یا لڑاکا طیاروں سے نہیں، بلکہ خودکش ڈرونز جیسے ہتھیاروں سے بھی لڑی جا رہی ہیں۔ پاکستان، بھارت، ایران، چین اور دیگر ممالک بھی اسی طرز کے ڈرونز پر کام کر رہے ہیں۔
اس وقت دنیا کے پانچ ممالک کے پاس یہ ڈرون ٹیکنالوجی موجود ہے جن میں اسرائیل، انڈیا، آزربائیجان، نیدرلیںڈ اور مراکش شامل ہیں۔





