افواجِ پاکستان نےبھارت کے 25 اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز مار گرائے،آئی ایس پی آر

افواجِ پاکستان نےبھارت کے 25 اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز مار گرائے،آئی ایس پی آر
کیپشن: افواجِ پاکستان نےبھارت کے 25 اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز مار گرائے،آئی ایس پی آر

ویب ڈیسک: افواجِ پاکستان نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ایک بار پھر خاک میں ملا دیا۔  پاکستان کی سافٹ کل (تکنیکی) اور ہارڈ کل (ہتھیاری) صلاحیتوں کی بدولت اب تک 25 اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز کو مؤثر انداز میں مار گرایا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان پر ایک بزدلانہ حملہ کیا جس میں پاک افواج کی بروقت اور شدید جوابی کارروائی کے نتیجے میں دشمن کے 5 جدید لڑاکا طیارے، متعدد ڈرونز اور کئی سرحدی پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ بھارتی افواج کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

اس شرمندگی اور ہزیمت کے بعد بھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز کے ذریعے پاکستان پر بار بار حملے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے اور وہ مسلسل پسپائی اختیار کر رہا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ جمع کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی ساخت، مقاصد اور پرواز کی تفصیلات کی جانچ کی جا سکے۔

ترجمان کے مطابق افواجِ پاکستان دشمن کو منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اور اس کے تمام عزائم کو خاک میں ملا رہی ہیں۔ ہم مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ہر قیمت چکانے کے لیے تیار ہیں۔

ہیروپ خودکش ڈرون کیا ہے؟
ہیروپ جسے ہارپی بھی کہا جاتا ہے، اسرائیلی ادارےاسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز کی تیار کردہ ایک جدید “لوئٹرنگ منیشن” یعنی منڈلانے والی خودکش بم ڈرون ٹیکنالوجی ہے۔ روایتی ڈرونز کے برعکس یہ ہتھیار ٹارگٹ ایریا کے اردگرد فضا میں منڈلاتا ہے اور جیسے ہی ہدف سامنے آئے اس سے ٹکرا کر دھماکہ کرتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی ایسے خفیہ یا وقتی اہداف پر برق رفتاری سے حملے کے لیے استعمال ہوتی ہے جن پر عام طیاروں یا میزائلوں سے حملہ کرنا ممکن نہ ہو۔ ہیروپ بغیر پائلٹ طیاروں کی جگہ لیتا جا رہا ہے کیونکہ اس سے انسانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر مؤثر حملے ممکن ہیں۔

ساخت، تاریخ اور عالمی استعمال
ہیروپ ڈرون کی تیاری 2001 سے 2003 کے درمیان شروع ہوئی اور اسے 2009 کے بھارتی ایئر شو میں پہلی بار عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ اسی سال بھارت نے 10 ہیروپ ڈرونز کے لیے تقریباً 100 ملین ڈالر کا معاہدہ کیایعنی ہر ڈرون کی قیمت 10 ملین ڈالر کے قریب رہی۔

یہ ڈرون کاربن فائبر سے تیار کیا جاتا ہے تاکہ اس کا وزن کم اور ریڈار پر نظر آنا مشکل ہو۔ اس میں جدید کیمرا نصب ہوتا ہے جو دن رات اور ہر موسم میں ہدف کو تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی پروں کی ساخت اور عمودی پرواز کنٹرول فن اسے کم جگہ میں ذخیرہ اور تیزی سے لانچ کرنے کے قابل بناتی ہے۔

  ہیروپ کو پہلی بار حقیقی جنگی ماحول میں آذربائیجان نے آرمینیا کے خلاف ناگورنوکاراباخ کی لڑائی میں استعمال کیا تھا جہاں اس نے دشمن کی فضائی دفاعی نظام اور ٹروپ ٹرانسپورٹ کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

دنیا میں ہیروپ کی فروخت

بھارت اور آذربائیجان کے علاوہ مراکش اور سنگاپور جیسے ممالک بھی اس ڈرون کو حاصل کر چکے ہیں جو کہ اس ٹیکنالوجی کی جدید فضائی جنگ میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جرمنی اور یورپی ادارہ ایم بی ڈی اے نے بھی اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی ظاہر کی تھی تاہم سیاسی اور فوجی وجوہات کی بنا پر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔