دنیا کے مہنگے ترین اور مہلک ڈرونز: جدید جنگوں کے خاموش قاتل

دنیا کے مہنگے ترین اور مہلک ڈرونز: جدید جنگوں کے خاموش قاتل

ویب ڈیسک: (علی زیدی) جدید جنگوں کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے، اور اس تبدیلی میں سب سے نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں ڈرونز—ایسے بغیر پائلٹ فضائی جہاز جو دور بیٹھے آپریٹر کے اشارے پر دشمن کو لمحوں میں تباہ کر سکتے ہیں۔ یہ صرف نگرانی کے آلات نہیں رہے بلکہ اب یہ قاتل ہتھیار بن چکے ہیں۔

آئیے جانتے ہیں دنیا کے چند مہنگے ترین اور مہلک ڈرونز کے بارے میں جو جدید میدانِ جنگ پر راج کر رہے ہیں:

  1. RQ-4 Global Hawk (امریکا)

قیمت: تقریباً 220 ملین ڈالر فی یونٹ
خصوصیت: 36 گھنٹے تک مسلسل پرواز، 60,000 فٹ بلندی تک پرواز کی صلاحیت
کام: نگرانی، انٹیلیجنس، اسٹریٹجک کمانڈ
مہلک پہلو: خود ہتھیار بند نہیں، مگر اس کی فراہم کردہ معلومات پر قاتل حملے ہوتے ہیں۔
2. MQ-9 Reaper (امریکا)

قیمت: تقریباً 32 ملین ڈالر
خصوصیت: میزائل اور بموں سے لیس، دشمن کو نشانہ بنانے میں انتہائی مؤثر
کام: ٹارگٹ کلنگ، انٹیلیجنس اور نگرانی
استعمال: افغانستان، عراق، یمن میں امریکہ کی جانب سے کئی اہدافی حملے
3. Bayraktar Akıncı (ترکیہ)

قیمت: لگ بھگ 20 ملین ڈالر
خصوصیت: کروز میزائل، بم، اور میزائل لے جانے کی صلاحیت
مہلک پہلو: طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت، مصنوعی ذہانت سے لیس
استعمال: لیبیا، آذربائیجان، یوکرین
4. CH-5 Rainbow (چین)

قیمت: اندازاً 16 ملین ڈالر
خصوصیت: 1,200 کلومیٹر تک رینج، 1 ٹن سے زائد وزن لے جانے کی صلاحیت
مہلک پہلو: بھاری ہتھیار، طویل پرواز
استعمال: مڈل ایسٹ میں چین کے اتحادی ممالک استعمال کرتے ہیں
5. Heron TP (اسرائیل)

قیمت: 10-15 ملین ڈالر
خصوصیت: کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت، طویل پرواز
مہلک پہلو: دشمن کی حدود میں گہرائی تک حملے کی طاقت
استعمال: غزہ، شام، اور ایران کے خلاف آپریشنز

یہ ڈرونز صرف ایک بٹن دبانے پر انسانی جانیں چھین سکتے ہیں، اور اکثر ان کا ہدف ایسا دشمن ہوتا ہے جو کبھی خطرہ بھی نہ بن پاتا۔ ان کی بے آواز پرواز اور مہلک حملہ انھیں روایتی ہتھیاروں سے کہیں زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے۔

 ان ڈرونز کا استعمال بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور جنگی اخلاقیات کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

ڈرون ٹیکنالوجی نے جنگ کو آسان اور سستا نہیں، بلکہ زیادہ پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے۔ اب فیصلے چند سیکنڈز میں ہوتے ہیں اور ہدف ہزاروں میل دور بیٹھا ہوتا ہے۔ آئندہ کی جنگیں شاید فوجیوں کے بجائے مشینوں کے درمیان ہوں۔