(ویب ڈیسک ) بھارت کے پاکستان کے اندر میزائل حملے غیر ذمہ دارانہ، بلا جواز اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھے۔ ان حملوں نے خطے کے امن اور استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
جس وقت یہ حملے کیے گئے، اس وقت 57 بین الاقوامی مسافر پروازیں، جن میں خلیجی اور یورپی ممالک کی ایئرلائنز بھی شامل تھیں، پاکستانی فضائی حدود میں موجود تھیں یا اس کے قریب سے گزر رہی تھیں۔
ان حملوں نے شہری ہوابازی کو سنگین خطرے میں ڈال دیا اور ہزاروں بے گناہ مسافروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ یہ صرف پاکستان کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
بھارت کے ان اقدامات نے ایک ایسے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے جو پہلے ہی جوہری ہتھیاروں سے لیس ہے، اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کو نہ عالمی اصولوں کی پرواہ ہے اور نہ انسانی جانوں کی۔
شہری فضائی حدود کو نشانہ بنا کر اور کشیدگی کو ہوا دے کر بھارت نے خود کو ایک غیر ذمہ دار اور خطرناک ملک کے طور پر پیش کیا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے جھوٹے بیانیے کے پیچھے کی حقیقت کو سمجھے اور اصل جارح کو پہچانے۔
یہ ایک ایسا نازک وقت ہے جب دنیا کی بڑی طاقتوں کو انصاف، امن اور احتساب کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر بروقت قدم نہ اٹھایا گیا تو بھارت کی یہ مہم جوئی پورے خطے کو، بلکہ دنیا کو بھی، مزید تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے۔











