ویب ڈیسک: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک غیرمعمولی واقعہ اُس وقت پیش آیا جب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی ایک مسافر پرواز بین الاقوامی فضائی حدود سے گزر رہی تھی، بالکل اُسی وقت جب ایرانی میزائل اسرائیل کی جانب محوِ پرواز تھے۔ فلائٹ کے کیپٹن نے فوری طور پر یہ مناظر اپنے موبائل کے کیمرے میں محفوظ کرلیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کی یہ پرواز معمول کے مطابق اپنے بین الاقوامی روٹ پر گامزن تھی کہ اچانک پائلٹ کی نظر فضا میں روشنیوں کی ایک قطار پر پڑی، جو بعد ازاں واضح ہوا کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل تھے۔
پی آئی اے فلائٹ کے کیپٹن نے فوری طور پر اپنے موبائل فون سے اس نایاب منظر کو ویڈیو کی صورت میں محفوظ کر لیا۔
القسیم سے پاکستان آنے والی پرواز دمام سٹی کے قریب تھی, ایران سے فائر کیے گئے بیلسٹک میزائل اسرائیل کی جانب جا رہے تھے, میزائل بہت بلندی پر تھے، طیارے کو کوئی خطرہ نہیں تھا.
ویڈیو بناتے وقت پرواز پی کے 168 پینتس ہزار فٹ کی بلندی پر سعودیہ سے گزررہی تھی , ویڈیو فلائٹ کے دوران بنائی گئی، ایرانی سرحد اس مقام پر قریب تھی.
ترجمان پی آئی اے نے ایرانی میزائلوں کی ویڈیو بنانے کے واقعہ کی تصدیق کردی ,ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ 35ہزار فٹ سے زیادہ بلندی ہو تو دور سے بھی چیزیں نظر آتیں ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں آسمان پر ایک کے بعد ایک روشنی کی لکیریں بلند ہو رہی ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی جنگی صورتِ حال کا عکس پیش کر رہی تھیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی ہے اور اسے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی ابا بیل اور پی آئی اے ۔
— Barrister Usman Cheema (@barristerCheema) June 16, 2025
کل جب ایرانی میزائل اپنی منزل اسرائیل کی طرف محو پرواز تھے تو اس وقت پی آئی اے کی فلائٹ بھی اس ایریا سے گزر رہی تھی۔ پی آئی اے فلائٹ کے کیپٹن نے اپنے فون سے ایرانی میزائلوں کی وڈیو بنائی۔ آپ بھی یہ تاریخی وڈیو دیکھیں۔ pic.twitter.com/yXulaX4U9u
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو نہ صرف جنگی صورتحال کی شدت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس بات کی بھی غماز ہے کہ عالمی فضائی روٹس پر فوری نظرِ ثانی کی ضرورت ہے تاکہ مسافر طیارے کسی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔


