ویب ڈیسک: ایران نے اتوار کی صبح اسرائیل پر ہائپرسونک میزائل داغے، جن کی رفتار آواز سے کئی گنا زیادہ تھی۔ اس سے قبل تل ابیب پر ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
کیا اسرائیلی دفاعی نظام ان میزائلوں کو روک سکتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی دفاعی نظام ہائپرسونک میزائلوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ ایران کے حالیہ حملے خاصی حد تک کامیاب رہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان موجودہ تصادم نے مستقبل کی جنگی حکمت عملی کا رخ واضح کر دیا ہے، جس پر دفاعی ادارے اور عسکری کالجز برسوں تحقیق کرتے رہیں گے۔
اسرائیلی میزائل ڈیفنس کی پرتیں
اسرائیل کے پاس تین سطحوں پر مشتمل میزائل دفاعی نظام موجود ہے:
آئرن ڈوم (Iron Dome):
قریبی فاصلے سے داغے گئے غیر گائیڈڈ راکٹوں اور چھوٹے ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا ہدف عام طور پر حماس اور حزب اللہ کے راکٹ ہوتے ہیں۔
ڈیوڈ سلنگ (David's Sling):
درمیانی فاصلے کے میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ نظام آواز کی رفتار سے کم سپیڈ والے میزائلوں سے نمٹنے کے لیے موزوں ہے۔
ایرو سسٹم (Arrow 1, 2, 3):
طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، لیکن اگر بیک وقت کئی میزائل داغے جائیں تو یہ نظام اوورلوڈ ہو کر ناکام ہو سکتا ہے۔
باراک میزائل سسٹم بھی اسی پرت کا حصہ ہے، جو زمین سے فضا میں مار کرنے والے دفاعی میزائل کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
ہائپرسونک میزائل، اسرائیلی دفاع کی کمزوری
ایران کے ہائپرسونک میزائل حملوں کی کامیابی کی بڑی وجہ ان میزائلوں کی رفتار اور پرواز کا انداز ہے۔ یہ آواز سے تقریباً پانچ گنا زیادہ رفتار سے سفر کرتے ہیں اور گلائیڈنگ موشن سے اپنے ہدف تک پہنچتے ہیں، جس سے انہیں دورانِ پرواز ٹریک کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔
امریکی دفاعی مدد بھی ناکافی؟
اسرائیل نے امریکا سے درآمد کیے گئے پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور جدید لیزر طیارہ شکن اسلحے کو بھی اپنے دفاع میں شامل کر رکھا ہے، جو فضا میں پرواز کرتے میزائلوں اور ڈرونز کو راستے میں جلا کر تباہ کر سکتا ہے۔ تاہم جب ایک ساتھ کئی ہتھیار حملہ آور ہوں تو یہ نظام صرف کسی ایک ہدف کو بیک وقت نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے مؤثر دفاع مزید مشکل ہو جاتا ہے۔


