ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، اسرائیل تنازع پر ثالثی کی پیشکش

ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، اسرائیل تنازع پر ثالثی کی پیشکش
کیپشن: ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، اسرائیل تنازع پر ثالثی کی پیشکش

ویب ڈیسک: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو امریکی مفادات پر حملے سے باز رہنے کا انتباہ جاری کرتے ہوئے، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر ثالثی کی پیشکش بھی کر دی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا حالیہ ایران پر ہونے والے حملے سے کوئی تعلق نہیں، اور ایران کو خبردار کیا کہ امریکی تنصیبات پر کسی بھی قسم کا حملہ ناقابلِ برداشت ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا "اگر امریکا پر حملہ ہوا، تو ہماری مسلح افواج پوری طاقت سے ایسے جواب دیں گی، جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔"

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدہ کرانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور یہ تنازع ختم ہو سکتا ہے، اگر فریقین سنجیدگی دکھائیں۔

سالگرہ پر فوجی پریڈ اور طاقت کا اظہار

اسی روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 79ویں سالگرہ کے موقع پر امریکا کی حالیہ دہائیوں کی سب سے بڑی فوجی پریڈ کی میزبانی کی۔ اس پریڈ میں ٹینک، جنگی طیارے اور مسلح افواج کے دستے شریک ہوئے۔ تقریب امریکی فوج کے 250ویں یومِ تاسیس کے موقع پر واشنگٹن میں منعقد کی گئی۔

خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا "جو قوتیں امریکا کو چیلنج کریں گی، انہیں مکمل اور قطعی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج "لڑتی ہے اور فتح حاصل کرتی ہے"۔

امریکا کی دوغلی پالیسی پر سوالات

موجودہ صورتحال میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک طرف امریکا، برطانیہ اور فرانس اسرائیل کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں، دفاعی نظام فراہم کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کو معاہدہ نہ کرنے پر دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں اور تنازع کی ذمہ داری بھی اسی پر ڈالی جا رہی ہے۔