ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے تہران کے شہریوں کو دارالحکومت خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا ہے، ساتھ ہی ایران کو نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری معاہدہ قبول کر لینا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے اس نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بارہا تنبیہ کے باوجود ایران نے مثبت رویہ نہیں اپنایا، جس کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ اسی تناظر میں انہوں نے تہران کے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہر خالی کر دیں۔
اس سے قبل کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران برطانوی وزیرِاعظم سے ملاقات میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا یہ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
صدر ٹرمپ نے پیش گوئی کی کہ بالآخر ایران کو ایٹمی معاہدہ کرنا پڑے گا۔
دریں اثنا، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ کینیڈا کے دورے کے بعد آج واشنگٹن واپس پہنچیں گے، جہاں وہ اہم قومی امور پر مشاورت میں حصہ لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی نیشنل سکیورٹی کونسل کو بھی ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

