ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ فی الحال وہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر اپنے پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران میں جنگ بندی سے بہتر حل اور تنازع کے مکمل خاتمے کی تلاش میں ہیں۔
واپسی کے سفر کے دوران کینیڈا سے واشنگٹن جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "میں ایران کے ساتھ بات چیت کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں، نہ کسی بھی شکل میں کوئی رابطہ کیا گیا ہے۔"
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو وہ معاہدہ تسلیم کر لینا چاہیے تھا جو پہلے ہی میز پر رکھا گیا تھا۔
ایک امریکی صحافی کے مطابق، ٹرمپ ایران سے مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا مقصد ایرانی جوہری تنازع کا مکمل اور مستقل خاتمہ ہے۔
صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے اسٹیو وٹکوف یا وینس کو ایران بھیج سکتے ہیں، لیکن فی الوقت یہ صرف ایک آپشن ہے۔
صدر ٹرمپ نے ساتھ ہی یہ پیش گوئی بھی کی کہ اسرائیل ایران پر حملوں کی شدت میں کمی نہیں کرے گا اور امریکی حکام مشرق وسطیٰ سے امریکیوں کے انخلاء کے لیے سرگرم ہیں۔


