امریکا کی مشرق وسطیٰ میں جنگی تیاری، طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں ٹینکر تعینات  

امریکا کی مشرق وسطیٰ میں جنگی تیاری، طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں ٹینکر تعینات  
کیپشن: امریکا کی مشرق وسطیٰ میں جنگی تیاری، طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں ٹینکر تعینات  

ویب ڈیسک: امریکا نے مشرق وسطیٰ میں جاری ایران اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے اہم فوجی سازوسامان اور افرادی قوت روانہ کر دی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے بڑی تعداد میں ایندھن بھرنے والے فوجی طیارے (ری فیولنگ ٹینکرز) مشرق وسطیٰ بھیج دیے ہیں، جب کہ ایک طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس نمٹز (USS Nimitz) بھی خطے میں حرکت میں دیکھا گیا ہے۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں اور اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ امریکی افواج کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور اس تعیناتی کا مقصد خطے میں دفاعی برتری کو مضبوط کرنا ہے۔

یو ایس ایس نمٹز بحری بیڑے میں 60 جنگی طیارے اور تقریباً 5 ہزار اہلکار تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ یہ جہاز پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت مشرق وسطیٰ روانہ کیا گیا تھا۔

مزید یہ کہ 31 سے زائد ملٹری ٹینکر طیارے گزشتہ اتوار امریکا سے روانہ ہوئے، جنہوں نے جرمنی، برطانیہ، یونان، اسٹونیا جیسے ممالک میں لینڈنگ کی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام نے تعینات کیے گئے جہازوں کی کل تعداد بتانے سے گریز کیا، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سطح کی تیاری خطے میں امریکا کی اسٹریٹجک پوزیشن کو واضح طور پر مضبوط کرتی ہے اور ممکنہ کشیدگی سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کا عندیہ دیتی ہے۔