(ویب ڈیسک )صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں امریکا کی مداخلت ممکن ہے، حالانکہ اس وقت امریکا اس میں شامل نہیں ہے۔
اتوار کو اے بی سی نیوز کو دی گئی ایک فون انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا "ہم اس میں شامل نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ ہم شامل ہو جائیں، لیکن اس وقت ہم شامل نہیں ہیں۔"
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوئی ڈیڈلائن ہے، تو ٹرمپ نے کہا، "نہیں، کوئی ڈیڈلائن نہیں ہے۔ لیکن وہ بات چیت کر رہے ہیں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ مسلسل بات کر رہے ہیں۔"
واضح رہے کہ اتوار کو عمان میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا اگلا دور طے تھا، لیکن یہ منسوخ کر دیا گیا۔ تاہم،امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام بات چیت کے لیے تیار ہیں اور جلد ہی مذاکرات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ "حالیہ کشیدگی شاید معاہدے کو جلدی کروا دے۔"
امریکی صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اس تنازع میں ثالثی کا ممکنہ کردار دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ پیوٹن نے خود ان سے رابطہ کیا تھا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ "وہ تیار ہیں۔ انہوں نے مجھے اس بارے میں فون کیا۔ ہماری طویل بات چیت ہوئی،"۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور عالمی برادری کی نظریں ممکنہ سفارتی حل پر مرکوز ہیں۔


