ویب ڈیسک: ایران پر اسرائیلی فضائی حملے پر پاکستان سمیت عالمی برادری کا ردعمل آگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا ہے۔

اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ایران پر اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔حملہ ایران کی خودمختاری کی صریحا خلاف ورزی ہے ۔قابل نفرت عمل نے بین الاقوامی قوانین کو ہلا کر رکھ دیا ۔پاکستان ایران کیساتھ کھڑا ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ کا بیان:
ترجمان دفترخارجہ نے بھی اپنے جاری کردہ بیان میں پاکستان کی جانب سے ایران پر اسرائیل کے میزائل حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر 51شق کے تحت دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔پاکستان ایرانی عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے۔
سعودی عرب کی شدید مذمت:
سعودی عرب نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ قرار دیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سعودی حکومت نے عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس خطرناک جارحیت کو فوری طور پر روکنے کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کرے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک برادر اسلامی ملک ہے اور اس کے خلاف کیا گیا یہ حملہ خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
سعودی عرب نے اسرائیلی اقدامات کو نہ صرف ناقابل قبول بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا ہے۔
چین کا ایران پر اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار:
چین نے ایران پر اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جو خطے میں امن و استحکام کے لیے سازگار ہوں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جیان نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین صورتحال کو ٹھنڈا کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی برادری کے لیے باعث تشویش ہے اور تمام متعلقہ فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ حالات مزید بگڑنے سے روکے جا سکیں۔
روس کی شدید تشویش: ایران-اسرائیل کشیدگی خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار
روس نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران میں جوہری اور عسکری اہداف پر کیے گئے فضائی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں امن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
پیسکوف کا کہنا تھا کہ “ہم اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اس اچانک اور خطرناک اضافے پر نہایت پریشان ہیں۔ اس صورتحال کے تسلسل سے خطہ مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔”
فریقین کو تحمل سے کام لینے کی اپیل
روسی ترجمان نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں تاکہ خطے میں کسی بڑی جنگ کا راستہ روکا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل:
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور خطے کو مزید کشیدگی کی طرف نہ دھکیلیں۔
اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ ایران اور اسرائیل گہرے تنازع کی طرف بڑھنے سے گریز کریں، اور ایسی صورتحال پیدا نہ کریں جس کا خطہ متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی نازک حالات سے گزر رہا ہے، اور مزید کسی کشیدگی سے علاقائی و عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، خطے کو کسی بھی نئی جنگ یا غیر یقینی صورتحال میں دھکیلنے سے گریز کیا جائے۔
عمان: "خطرناک اور ناقابل قبول قدم"
سلطنت عمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملہ "خطرناک غفلت پر مبنی شدت پسندی" ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو روکے اور خطے کے امن کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف اختیار کرے۔
آسٹریلوی وزیرخارجہ کا صورتحال پر تشویش کا اظہار:
ایران پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد عالمی سطح پر ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، جہاں آسٹریلیا نے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک ایسے خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے جو پہلے ہی نازک حالات سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ ضبط و تحمل سے کام لیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو حالات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال عالمی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اور اس کا حل صرف سفارتی ذرائع سے ممکن ہے۔
وزیر خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
نیوزی لینڈ: "یہ ایک خطرناک موڑ ہے"
وزیر اعظم نیوزی لینڈ کرسٹوفر لکسن نے کہا: "مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی افسوسناک ہے، اس سے مزید فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جو دنیا افورڈ نہیں کر سکتی۔"


