ویب ڈیسک:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے جوہری معاہدے پر رضامندی ظاہر نہ کی تو آئندہ حملے پہلے سے بھی زیادہ شدید اور "وحشیانہ" ہوں گے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ "ہم نے ایران سے کہا کہ جوہری معاہدہ کر لو، لیکن وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ ہم معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے، لیکن کچھ عناصر نے اسے ناکام بنایا۔"
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کے بعض سخت گیر عہدیداروں نے 'بہادری' کی باتیں کیں، مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ "آج وہ تمام سخت گیر لوگ مر چکے ہیں، اور جو کچھ آگے آنے والا ہے، وہ اس سے بھی زیادہ بدتر ہو گا۔"
"اس سے پہلے کہ کچھ باقی نہ بچے…"
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران کو معاہدے کا ایک اور موقع دیا گیا ہے، اور "اب یہ فیصلہ تہران کو کرنا ہے، اس سے پہلے کہ کچھ بھی باقی نہ رہے"۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ "امریکا دنیا کا سب سے مہلک ہتھیار بنانے والا ملک ہے، جبکہ اسرائیل کے پاس ان ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، اور وہ جانتے ہیں کہ اسے کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔"
موجودہ تناظر
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی شدید ترین سطح پر ہے، اور خطے میں ایک ممکنہ بڑی جنگ کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین نے ٹرمپ کے حالیہ بیان کو اشتعال انگیز اور خطرناک قرار دیا ہے، جو سفارتی کوششوں کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔


