ویب ڈیسک: امریکا نے ایران کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکی شہریوں، فوجی اڈوں یا بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو شدید اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کا ایران پر حالیہ حملہ خود دفاع کے تحت ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی یہ پالیسی بدستور قائم ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیے جائیں۔
امریکی نمائندے نے مزید کہا کہ ایران کے لیے اس وقت مذاکرات کی میز پر آنا دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو اسرائیلی حملے کی پیشگی اطلاع تھی، لیکن امریکہ ان حملوں میں شریک نہیں تھا۔
ٹرمپ کی ایران کو آخری وارننگ: "ڈیل کریں، ورنہ کچھ باقی نہیں بچے گا"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کو جوہری ڈیل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ"ایران کو 60 دن کا الٹی میٹم دیا تھا، جمعے کو 61 واں دن تھا۔ ایران معاہدے کے قریب آیا، لیکن وہ اسے مکمل نہ کر سکا۔"
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی قیادت کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ"اگر ڈیل نہ ہوئی تو جو ہو گا وہ ان کے تصورات سے بھی بدتر ہو گا۔"
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دنیا کے مہلک ترین ہتھیار بناتا ہے اور وہ ہتھیار اسرائیل کو فراہم کیے گئے ہیں، جنہیں استعمال کرنے کا تجربہ اسرائیل کو خوب ہے۔
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ بعض ایرانی رہنماؤں نے دلیری کی باتیں کیں، لیکن وہ انجام سے بے خبر تھے۔ اب وہ رہنما زندہ نہیں رہے اور صدر کے مطابق، "اب جو کچھ ہونے والا ہے، وہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور سفاک ہو گا۔"
اختتام پر امریکی صدر نے خبردار کیا کہ"ایران کو فوراً معاہدے کی طرف آنا ہوگا، ورنہ انجام ایسا ہو گا کہ کچھ باقی نہ بچے گا۔ خدا آپ سب کی حفاظت کرے۔"


