ویب ڈیسک: قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسلم دنیا کو متنبہ کیا کہ اگر اتحاد نہ ہوا تو "سب کی باری آئے گی"۔
اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت جاری اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ "بجٹ پر بحث تو جاری ہے، مگر کل ہمارے برادر اسلامی ملک ایران پر حملہ ہوا۔ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات تاریخ میں بے نظیر ہیں۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ "اسرائیل کی توجہ صرف ایران پر نہیں بلکہ فلسطین اور یمن پر بھی ہے۔ اگر اسلامی دنیا نے اب بھی اتحاد نہ کیا تو کل یہی آگ باقی سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔"
خواجہ آصف نے زور دیا کہ موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر او آئی سی (OIC) کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے، تاکہ اسرائیلی مظالم کے خلاف ایک مضبوط اور اجتماعی ردعمل دیا جا سکے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ "آج غیر مسلم دنیا میں فلسطینیوں کے لیے آواز بلند ہو رہی ہے، لیکن مسلم دنیا میں وہ بیداری نہیں آ رہی جو آنی چاہیے۔"
سیاسی تنقید اور بجٹ پر گفتگو
اپنی تقریر کے دوران وزیر دفاع نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر بھی کڑی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ "کمیٹی روم نمبر 2 میں ہونے والی ایک میٹنگ میں ہم اس وقت کے وزیراعظم کا انتظار کرتے رہے، اور بالآخر ابھی نندن کو واپس کر کے ہم نے قومی وقار پر سمجھوتا کیا۔"
خواجہ آصف نے 2019 میں بھارتی پائلٹ کی واپسی کو "سرینڈر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ فیصلہ ایک قومی کمزوری تھی، جس کا بوجھ آج بھی محسوس ہوتا ہے۔"
بجٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے وزیر خزانہ کو سراہا اور کہا کہ"ہم نے ایک سال میں جو کچھ حاصل کیا، وہ غیر معمولی ہے۔ بین الاقوامی اداروں کا اعتماد بحال کرنا آسان کام نہیں تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ نے ملک کو معاشی بحران سے نکالا۔"
عمران خان پر شدید تنقید
خواجہ آصف نے عمران خان کو "حب الشخص" (شخصیت پرستی) کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ "سیاست کا مرکز کسی ایک فرد کو بنانا وطن سے محبت نہیں۔ یہ گدی نشینی نہیں کہ پارٹی کو ایک ہی شخص کے گرد گھمایا جائے۔ نئی قیادت سامنے لائیں تاکہ آپ کی جماعت برقرار رہے۔"


