ویب ڈیسک: ایرانی فوج کے فضائی دفاعی یونٹ نے ملک کی مغربی فضائی حدود میں ایک اور جدید اسرائیلی F-35 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق طیارے کا پائلٹ کریش سے قبل ایجیکٹ ہونے میں کامیاب رہا، تاہم ایرانی کمانڈوز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اُسے حراست میں لے لیا.

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب گزشتہ شب بھی ایرانی میڈیا نے 2 اسرائیلی F-35 طیارے مار گرانے اور ایک خاتون پائلٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جسے بعد ازاں اسرائیلی افواج نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا کوئی طیارہ تباہ نہیں ہوا۔
محقیقن کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہو جائے تو یہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں بڑے اضافے کا سبب بن سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر خطے میں مزید فوجی ردعمل کا باعث بنے گا۔
ایف 35 ایک انتہائی جدید اور اسٹیلتھ (ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھنے والا) جنگی طیارہ ہے، جسے مار گرانا ایک بہت بڑا تکنیکی کارنامہ ہوگا، خاص طور پر اگر وہ دشمن ملک کی حدود میں آپریٹ کر رہا ہو۔
ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں کئی دعوے سامنے آئے ہیں جن میں اسرائیلی ڈرونز یا طیارے مار گرانے کی بات کی گئی، جبکہ اسرائیل کی طرف سے ان میں سے اکثریت کی تردید کی گئی ہے۔


