قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمتی قراردادیں منظور

قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمتی قراردادیں منظور
کیپشن: قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمتی قراردادیں منظور

ویب ڈیسک: پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے ایران پر اسرائیلی حملے کو عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ایرانی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متفقہ مذمتی قراردادیں منظور کر لی ہیں۔

قومی اسمبلی: اتفاقِ رائے سے مذمتی قراردادمنظور

قومی اسمبلی میں پیش کی گئی مذمتی قرارداد حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ کاوش تھی، جسے ایوان نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ "پاکستان، اسرائیلی بلاجواز اور غیر قانونی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے، جو ایرانی ریاست کی خودمختاری، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔"

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کی مسلسل جارحانہ روش مشرق وسطیٰ اور عالمی امن کو سنگین خطرات سے دوچار کر رہی ہے، اور نتائج کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔

پاکستانی پارلیمان نے ایران کی حکومت، پارلیمنٹ اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

سینیٹ: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قرارداد پیش کی

سینیٹ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اسرائیلی حملے کے خلاف قرارداد پیش کی، جسے بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

قرارداد میں اسرائیلی اقدام کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا اور ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا "اسرائیل نے ہمارے برادر اسلامی ملک پر حملہ کر کے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے، پاکستان اس جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔"

اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز اور سینیٹر عرفان صدیقی نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے خلاف ہیں۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا "اسرائیل کا وجود ہی ناجائز ہے اور وہ ہمیشہ سے دنیا میں عدم استحکام کا باعث رہا ہے۔"