نطنز جوہری تنصیب اسرائیلی حملے کا نشانہ بنی، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی تصدیق

نطنز جوہری تنصیب اسرائیلی حملے کا نشانہ بنی، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی تصدیق
کیپشن: نطنز جوہری تنصیب اسرائیلی حملے کا نشانہ بنی، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی تصدیق

ویب ڈیسک: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ایران کی حساس نطنز جوہری تنصیب کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ ادارے نے بتایا ہے کہ حملے کے بعد سائٹ پر تابکاری کی سطح میں کسی قسم کا اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا اور جوہری تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

IAEA کے ترجمان کے مطابق ادارہ صورتحال پر "گہری نظر رکھے ہوئے ہے" اور نطنز پر حملے کے حوالے سے ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

"فردا، بوشہر اور اصفہان محفوظ" — ایرانی حکام

ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام نے آگاہ کیا ہے کہ بوشہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ، اصفہان اور فردا کی جوہری تنصیبات اسرائیلی حملوں سے محفوظ رہی ہیں اور انہیں نشانہ نہیں بنایا گیا۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی نطنز حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک کسی بھی قسم کی ایٹمی آلودگی یا ریڈی ایشن لیک کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اسرائیل کی ایران پر حملہ آور کارروائی

واضح رہے کہ آج اسرائیل نے ایران پر باقاعدہ فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے متعدد جوہری اور فوجی اہداف کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد حسین باقری، پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی اور 6 نامور جوہری سائنسدانوں کی شہادت کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔

عالمی برادری کی تشویش

اسرائیلی حملے کے بعد بین الاقوامی برادری میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کئی عالمی اداروں نے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے فریقین پر تحمل اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔