ویب ڈیسک: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر بلایا گیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس کسی متفقہ فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا۔ اجلاس میں امریکہ، ایران اور دیگر ممالک کے نمائندوں نے اپنی اپنی پوزیشنز پیش کیں، تاہم عالمی برادری کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے میں ناکام رہی۔
امریکی مندوب نے اجلاس کے دوران اعتراف کیا کہ واشنگٹن حکومت اسرائیل کے حملے سے پیشگی طور پر آگاہ تھی، مگر ان کا دعویٰ تھا کہ ان حملوں میں امریکی افواج شامل نہیں تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اسرائیل کے دفاع کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن وہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ امریکی نمائندے نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب، ایرانی مندوب عامر سعید نے اسرائیل کی جانب سے ایرانی سرزمین پر حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اقوام متحدہ نے اسرائیل کو نہ روکا تو پورا خطہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں جھلس سکتا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے فریقین سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "خطہ مزید کسی بڑے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا، اسرائیل اور ایران فوری طور پر سفارتکاری کو موقع دیں اور مزید تصادم سے گریز کریں۔"


